اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلوں سے رہنمائی تو لے سکتی ہے، تاہم ان فیصلوں کی پابند نہیں۔ عدالت کے مطابق سپریم کورٹ کی قانونی نظیروں کی حیثیت قائل کرنے والی ہے اور آئین و قانون سے ہم آہنگ ہونے کی صورت میں انہیں اختیار کیا جاسکتا ہے۔فیصلے میں نظرثانی درخواستوں کے دائرہ اختیار کو محدود قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ریویو کا مقصد مقدمے پر دوبارہ بحث کا موقع فراہم کرنا نہیں، بلکہ ریکارڈ پر موجود واضح غلطی یا ایسی کوتاہی کا جائزہ لینا ہے جس سے انصاف کا قتلِ عام ہوا ہو۔
وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ فضول یا بدنیتی پر مبنی نظرثانی درخواستوں کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔ ایسی درخواست پر کم از کم 25 ہزار روپے اخراجات عائد کیے جاسکتے ہیں، جبکہ ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کے خلاف تادیبی کارروائی بھی ممکن ہے۔فیصلے کے مطابق نظرثانی درخواست دائر کرنے سے پہلے وجوہات پر مبنی سرٹیفکیٹ دینا اور 50 ہزار روپے بطور سیکیورٹی جمع کرانا لازم ہوگا۔ درخواست مسترد ہونے یا فضول اور بدنیتی پر مبنی قرار پانے کی صورت میں سیکیورٹی ضبط کی جاسکتی ہے۔عدالت نے مزید واضح کیا کہ ہائی کورٹ کے آرٹیکل 199 کے تحت دیے گئے فیصلے کے خلاف اپیل کے لیے وفاقی آئینی عدالت سے اجازت یعنی لیو ٹو اپیل حاصل کرنا ضروری ہے۔ اجازت مسترد ہونے کا مطلب لازماً ہائی کورٹ کے فیصلے کی توثیق نہیں، جبکہ اجازت کے مرحلے پر تفصیلی وجوہات دینا بھی ہر صورت لازم نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظر بندی میں توسیع کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی
وفاقی آئینی عدالت نے بلوچستان ٹریڈنگ کمپنی کی نظرثانی درخواست مسترد کرتے ہوئے جمع کرائی گئی سیکیورٹی ضبط کرنے کا حکم دے دیا۔فیصلے کے مطابق کمپنی اپنی درخواست میں ریکارڈ پر موجود کسی واضح غلطی کی نشاندہی نہیں کرسکی، بلکہ پہلے اٹھائے گئے نکات ہی دوبارہ پیش کیے گئے تھے۔ عدالت نے لیز کی بحالی اور قبضے سے متعلق کمپنی کی درخواست بھی مسترد کردی۔












