اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) سپریم کورٹ آف پاکستان نے جعلی ڈگری کیس میں سابق رکنِ قومی اسمبلی جمشید دستی کی عبوری ضمانت میں 4 نومبر تک توسیع کر دی۔سماعت کے دوران پنجاب حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جمشید دستی کے خلاف صرف صوبہ پنجاب میں 47 مقدمات درج ہیں۔ اس موقع پر جمشید دستی کے وکیل نے انکشاف کیا کہ ان کے موکل کے خلاف صرف دو ہزار روپے کا موبائل فون چوری کرنے کا مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔
اس انکشاف پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس دیے کہ "یہاں بھینس چوری کے مقدمات بھی درج کر لیے جاتے ہیں، اس ملک میں تماشا بنا ہوا ہے اور ہم نہ جانے کس طرف جا رہے ہیں۔” انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری عدالتیں عالمی درجہ بندی میں 136ویں نمبر پر ہیں، جہاں ایک ہی شخص کے خلاف مختلف صوبوں میں سو سے زائد ایف آئی آرز درج کر دی جاتی ہیں۔ ایسے اقدامات پر لوگ ہنستے ہیں اور ہم اپنے نظام کا خود ہی مذاق بناتے ہیں۔جسٹس عقیل عباسی نے جمشید دستی کے خلاف درج دیگر عجیب و غریب مقدمات پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف انفیکشن پھیلانے کا مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے، کیا جمشید دستی بیماریاں پھیلاتے ہیں؟ کسی کے خلاف اتنے مقدمات بنا دیے جاتے ہیں کہ وہ ساری زندگی عدالتوں کے چکر ہی کاٹتا رہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کا قومی قرض 40.4 ٹریلین ڈالر سے تجاوز، قرضوں کا بوجھ مزید بڑھ گیا
سماعت کے دوران جسٹس ملک شہزاد نے سیاسی رویوں پر تبصرہ کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ لوگ اقتدار میں ہوتے ہیں تو سیاسی مخالفین کی گرفتاریوں پر خوش ہوتے ہیں، اور جب خود اپوزیشن میں آتے ہیں تو عدالتوں کی طرف بھاگتے ہیں۔” انہوں نے جمشید دستی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے خلاف درج مقدمات کی تعداد دیکھ کر لگتا بھی یہی ہے کہ آپ کوئی جہادی ہیں۔عدالت نے کارروائی کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان، وفاق اور تمام صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ 10 روز کے اندر جمشید دستی کے خلاف درج تمام مقدمات اور ان کا مکمل ریکارڈ سپریم کورٹ میں جمع کرائیں۔












