واشنگٹن(پاک ترک نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران جنگ کے حوالے سے ایک بڑا فیصلہ کرنے والے ہیں، جنگ شروع کرکے ایران کو مکمل طور پر تباہ کیا جائے یا نہیں، یہ ایک بڑا فیصلہ ہوگا، کچھ بھی ہوسکتا ہے۔امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جنگ کے اگلے اقدامات کے حوالے سے اقوام متحدہ میں علاقائی اتحادیوں سے براہِ راست رائے لی جاسکتی ہے، وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اتحادی کہاں کھڑے ہیں اور ان کی صورتحال کیا ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ان ممالک کا بڑا محافظ رہا ہے۔ انہوں نے ایران کی بحری ناکہ بندی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ناکہ بندی شروع ہونے کے بعد ایک بھی جہاز ایران نہیں گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی قیادت میں یمنی فورسز کا حوثیوں کے 30 جنگجو ہلاک کرنے کا دعویٰ
امریکی صدر کے مطابق ایران نے کارروائی کی کوشش کی، جسے امریکا نے ناکام بنا دیا، امریکا ایران کے ساتھ براہِ راست رابطے میں ہے اور ایرانی اب بھی معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگلے ہفتے نیویارک میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ یا تو اچھا معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا، تاہم کسی بھی صورت میں ایران کے خلاف جنگ میں کامیابی امریکا کی ہوگی۔ٹرمپ نے ایران میں مزید فوج بھیجنے یا معاہدے سے متعلق سوال پر کہا کہ امریکا کے سامنے دونوں راستے موجود ہیں۔امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکی جہاز آبنائے ہرمز سے رات کے وقت گزرتے ہیں کیونکہ ایران کو ان کی موجودگی کا علم نہیں ہوتا، جبکہ ایرانی ریڈار تباہ کیے جاچکے ہیں۔
ٹرمپ نے ایران کی معاشی صورتحال پر بھی بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہاں مہنگائی تین سو فیصد تک پہنچ چکی ہے اور ایرانی معیشت ایسی صورتحال سے دوچار ہے جس کا ملک نے پہلے کبھی سامنا نہیں کیا۔اس سے قبل گزشتہ روز ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی تھی کہ ایران میں جاری جنگ اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہی ہے۔












