اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) پمز آتشزدگی کے المناک واقعے میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے بعد زندہ بچائی گئی ایک اور نومولود بچی بھی جانبر نہ ہوسکی، جس کے بعد واقعے میں جاں بحق ہونے والے نومولود بچوں کی تعداد 15 ہوگئی ہے۔ذرائع کے مطابق آتشزدگی کے بعد نرس کے ہاتھوں زندہ بچائی گئی نومولود بچی کو پمز میں داخل کرکے مسلسل زیرعلاج رکھا گیا، تاہم بعد ازاں اس کی حالت بگڑتی چلی گئی۔ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے مطابق نومولود بچی کو 26 اگست کو پمز میں داخل کیا گیا تھا اور وہ 22 روز زیرعلاج رہنے کے بعد 17 ستمبر کو انتقال کرگئی۔
ڈیتھ سرٹیفکیٹ میں بچی کی موت کی وجہ دل اور سانس کا رک جانا قرار دی گئی ہے۔طبی دستاویز کے مطابق آتشزدگی کے بعد بچی میں خون میں شدید جراثیمی انفیکشن، خون جمنے کے نظام میں سنگین خرابی اور پھیپھڑوں میں خون بہنے جیسی پیچیدگیاں پیدا ہوگئی تھیں۔ذرائع کے مطابق نومولود بچی کی حالت آتشزدگی کے بعد مسلسل تشویشناک رہی اور ڈاکٹروں کی جانب سے علاج کے باوجود شدید طبی پیچیدگیوں پر قابو نہ پایا جاسکا۔
یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ کا اجلاس، امریکا کا فلسطینی صدر محمود عباس کو ویزا دینے سے انکار
یوں 26 اگست کو پمز کی نرسری میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں جاں بحق نومولود بچوں کی تعداد 15 ہوگئی ہے۔ ابتدائی طور پر 15 نومولود بچوں میں سے 14 کی موقع پر یا بعد ازاں ہلاکت ہوئی تھی، جبکہ زندہ بچ جانے والی بچی بھی 22 روز تک زیرعلاج رہنے کے بعد آج دم توڑ گئی۔












