ریاض ( پاک ترک نیوز) سعودی عرب کی اہم مشرقی مغربی تیل پائپ لائن پر ڈرون حملے کے بعد عالمی تیل منڈی میں شدید بے چینی پیدا ہوگئی، سعودی عرب نے یورپی خریداروں کو ستمبر میں لوڈ ہونے والے خام تیل کے بعض کارگو منسوخ کرنے سے آگاہ کردیا جبکہ بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع سے خام تیل کی لوڈنگ بھی معطل کردی گئی۔ ذرائع کے مطابق سعودی تیل کی ترسیل میں رکاوٹ کے بعد بڑے یورپی خریداروں نے متبادل ذرائع سے خام تیل حاصل کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔ پولینڈ کی بڑی تیل کمپنی بھی شمالی سمندر اور امریکا سمیت دیگر ذرائع سے خام تیل کے حصول کے لیے متبادل انتظامات کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کو ایک اور دھچکا، ایران جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد منظور
سعودی عرب کی مشرقی مغربی پائپ لائن ملک کے مشرقی علاقوں سے خام تیل بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع تک پہنچاتی ہے، جہاں سے یورپ اور دیگر منڈیوں کو تیل برآمد کیا جاتا ہے۔ پائپ لائن کی بندش نے پہلے سے دباؤ کا شکار عالمی تیل رسد کے نظام پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق یورپی منڈی میں فوری دستیاب خام تیل کے بعض کارگو کی قیمت 122 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی، جبکہ بعض جسمانی کارگو اس سے بھی زیادہ قیمت پر فروخت کے لیے پیش کیے گئے۔
عالمی منڈی میں منگل کو برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 108.75 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی، جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت 105.83 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ بدھ کی ابتدائی تجارت میں برینٹ تقریباً 107.82 ڈالر اور امریکی خام تیل 104.86 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کیا گیا۔












