کراچی ( پاک ترک نیوز) کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن کے ایک شہری نے ناظم آباد کے نجی اسپتال پر نومولود غائب کرنے کا الزام عائد کردیا۔ شہری راشد اقبال کا دعویٰ ہے کہ ان کی اہلیہ حاملہ تھیں اور اسپتال میں آپریشن کے بعد بچہ غائب کردیا گیا۔راشد اقبال کے مطابق اسپتال کے ڈاکٹروں نے انہیں بتایا کہ ان کی اہلیہ حاملہ ہی نہیں تھیں، جس پر انہوں نے اسپتال انتظامیہ سے بچے کے بارے میں سوالات اٹھائے۔
دوسری جانب اسپتال انتظامیہ نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق شبہ ہے کہ جس خاتون کا طبی معائنہ کیا گیا تھا، ڈیلیوری کے وقت وہی خاتون اسپتال نہیں آئی۔واقعے کی تحقیقات کے لیے قائم کمیٹی نے راشد اقبال اور متعلقہ ڈاکٹروں کے بیانات قلمبند کرلیے ہیں، جبکہ اسپتال کی سی سی ٹی وی فوٹیجز اور کمپیوٹر ریکارڈ بھی تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔ڈاکٹر انجم ارا حسن کے مطابق ایم ایل او رپورٹس سے بھی ثابت ہوگیا ہے کہ خاتون حاملہ نہیں تھی۔ ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ خاتون پہلی بار فروری میں ان کے پاس آئی تھیں اور اس وقت انہوں نے تین ماہ سے حاملہ ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ پمز کی عبوری تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی سفارش
ڈاکٹر انجم ارا حسن کے مطابق فروری میں کرائے گئے الٹراساؤنڈ میں خاتون کے حاملہ ہونے کی رپورٹ منفی آئی تھی۔ ان کے بقول خاتون کی فائل میں معائنے کے اندراجات بھی مبینہ طور پر جعلی ہیں جبکہ اسپتال میں داخلے کے وقت جعلی الٹراساؤنڈ رپورٹ پیش کی گئی۔اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ معاملے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور سی سی ٹی وی، طبی ریکارڈ اور متعلقہ افراد کے بیانات کی روشنی میں حقائق سامنے لائے جائیں گے۔












