اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) اسلام آباد میں دل دہلا دینے والا سانحہ۔۔۔پمز اسپتال کی نرسری میں لگنے والی آگ نے 14 خاندانوں کی دنیا اجاڑ دی۔۔۔نومولود بچے۔۔۔ جو زندگی کی پہلی سانسیں لے رہے تھے۔۔۔ آگ کے شعلوں کی نذر ہوگئے۔۔۔ریسکیو آپریشن مکمل ہوگیا، آگ پر قابو پالیا گیا۔۔۔ مگر کئی سوالات ایسے ہیں جن کے جواب ابھی باقی ہیں۔۔۔آخر یہ سانحہ ہوا کیسے؟
کیا بروقت اقدامات سے ننھی جانیں بچائی جاسکتی تھیں؟اور کیا اسپتال میں آگ سے بچاؤ کے مناسب انتظامات موجود تھے؟ان سوالوں کا جواب اب تحقیقات میں تلاش کیا جائے گا۔۔۔صبح پونے سات بجے سے پہلے۔۔۔پمز اسپتال کی تیسری منزل پر واقع نرسری۔۔۔جہاں نومولود بچے زندگی کی پہلی منزل طے کر رہے تھے۔۔۔ اچانک قیامت بن گئی۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایئرکنڈیشن کے کمپریسر میں دھماکے کے بعد آگ بھڑکی۔۔۔دیکھتے ہی دیکھتے شعلوں اور دھویں نے نرسری کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔۔۔14 ننھی جانیں موقع پر ہی دم توڑ گئیں۔۔۔ایک لیڈی ڈاکٹر صرف ایک بچے کو بچانے میں کامیاب ہوسکی۔۔۔ریسکیو ٹیموں نے آپریشن مکمل کرکے آگ پر قابو پالیا۔۔۔پمز اسپتال سے 19 افراد کو بحفاظت نکالا گیا۔۔۔ریسکیو کیے گئے افراد میں 10 خواتین، 7 بچے اور 2 مرد شامل ہیں۔آتشزدگی کے بعد پمز کی نرسری کو سیل کردیا گیا ہے۔
ادھر اسپتال کے باہر۔۔۔جاں بحق بچوں کے والدین غم سے نڈھال ہیں۔۔۔کسی کی گود اجڑ گئی۔۔۔ کسی کے خواب بکھر گئے۔۔۔نو بچوں کی لاشیں لواحقین کے سپرد کردی گئی ہیں۔۔۔عینی شاہد خواتین کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کے بعد اسپتال میں بھگدڑ مچ گئی۔۔۔دھویں کے باعث کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔۔۔والدین اپنے بچوں کو لے کر نرسری سے باہر بھاگے۔۔۔کسی نے جان بچائی۔۔۔ تو کسی کا سب کچھ وہیں رہ گیا۔۔۔ فائر بریگیڈ کا عملہ ڈیڑھ سے دو گھنٹے تاخیر سے پہنچا۔۔۔آگ لگنے کے بعد ہر طرف دھواں اور بھگدڑ تھی۔۔۔ہم اپنے بچوں کو لے کر بھاگے، سامان وہیں رہ گیا۔۔۔دھویں کی وجہ سے کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔۔۔لیکن۔۔۔
یہ بھی پڑھیں: پمز آتشزدگی کی ابتدائی رپورٹ وزیراعظم کو پیش، فائر سیفٹی انتظامات ناکافی قرار
اب اصل سوال یہ ہے۔۔۔آخر پمز کی نرسری میں آگ بجھانے کے انتظامات کتنے مؤثر تھے؟الزام ہے کہ ملک کے بڑے سرکاری اسپتال کی نرسری میں مناسب فائر فائٹنگ سامان موجود نہیں تھا۔۔۔ریسکیو اہلکار سیڑھیاں لگا کر تیسری منزل تک پہنچتے رہے۔۔۔والدین کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ حادثے کے وقت اسٹاف کی موجودگی بھی ایک سوال ہے۔۔۔مگر۔۔۔کیا واقعی غفلت ہوئی؟کیا فائر سیفٹی نظام ناکافی تھا؟ریسکیو ٹیم کتنی دیر بعد پہنچی؟اور کیا بروقت کارروائی سے ان 14 ننھی جانوں کو بچایا جاسکتا تھا؟ان سوالات کا جواب اب تحقیقات دیں گی۔۔۔وزیراعظم شہباز شریف نے پمز اسپتال میں آتشزدگی کا نوٹس لے لیا۔۔۔فوری تحقیقات کا حکم دے دیا۔۔۔وزیراعظم نے اہم اجلاس بھی طلب کرلیا ہے، جس میں وفاقی وزیر صحت اور دیگر متعلقہ وزراء شرکت کریں گے۔اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیے جانے کا بھی امکان ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ اس اندوہناک واقعے پر دل رنجیدہ ہے۔۔۔بچوں کے ساتھ ایسی صورتحال ناقابلِ تلافی ہے۔۔۔آتشزدگی کے محرکات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے اور ذمہ داروں کا تعین کرکے سخت سے سخت کارروائی کی جائے۔
دوسری جانب ضلعی انتظامیہ نے واقعے کی تحقیقات کے لیے 8 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔۔۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کمیٹی کے سربراہ ہیں۔۔۔ریسکیو، پولیس، سی ڈی اے، آئیسکو اور پمز حکام بھی کمیٹی کا حصہ ہیں۔کمیٹی یہ جانچ کرے گی کہ۔۔۔آگ لگی کیوں؟ریسکیو ٹیم کتنی دیر میں پہنچی؟نرسری میں حفاظتی انتظامات کیا تھے؟اور لواحقین کی جانب سے سامنے آنے والے دعوؤں میں کتنی صداقت ہے؟تحقیقاتی کمیٹی کو 24 گھنٹے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔۔۔ 14 خاندانوں کا دکھ۔۔۔ صرف 24 گھنٹے کی تحقیقات کا منتظر نہیں۔۔۔وہ جواب چاہتے ہیں۔۔۔وہ جاننا چاہتے ہیں کہ اگر ذمہ داری تھی۔۔۔ تو نبھائی کیوں نہیں گئی؟14 ننھی جانیں واپس نہیں آسکتیں۔۔۔لیکن اگر تحقیقات نے حقیقت سامنے لادی۔۔۔اگر غفلت ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کو سزا ملی۔۔۔اور اگر حفاظتی نظام بہتر بنا دیا گیا۔۔۔تو شاید کسی اور اسپتال کی نرسری میں۔۔۔کسی اور ننھی زندگی کو بچایا جاسکے۔یہ صرف ایک حادثہ نہیں۔۔۔یہ ایک سوال ہے۔۔۔اور اس سوال کا جواب۔۔۔ اب دینا ہوگا۔








