کراچی ( پاک ترک نیوز) پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر جولائی 2026 کے اختتام تک بڑھ کر تقریباً 17 ارب ڈالر ہوگئے، جس سے بیرونی ادائیگیوں اور عالمی معاشی دباؤ سے نمٹنے کی ملک کی صلاحیت بہتر ہوئی ہے۔رپورٹ کے مطابق جولائی 2025 میں زرمبادلہ ذخائر 14 ارب ڈالر تھے جو ایک سال میں بڑھ کر 17 ارب ڈالر ہوگئے۔ موجودہ ذخائر پاکستان کی تقریباً تین ماہ کی درآمدات کی ضروریات پوری کرسکتے ہیں، جس سے عالمی سطح پر اجناس کی قیمتوں میں اضافے اور بیرونی مالی دباؤ کے مقابلے میں حفاظتی حصار مضبوط ہوا ہے۔
زرمبادلہ ذخائر میں بہتری کے باعث موڈیز ریٹنگز نے پاکستان کی مقامی اور غیر ملکی کرنسی کی خودمختار ریٹنگ Caa1 سے بڑھا کر B3 کردی ہے، جبکہ آؤٹ لک مستحکم رکھا گیا ہے۔موڈیز کے مطابق پاکستان کی معاشی صورتحال گزشتہ ادوار کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور لچکدار ہوئی ہے۔ بہتر زرمبادلہ ذخائر، مستحکم شرح تبادلہ اور کم مہنگائی نے معیشت کو بیرونی جھٹکوں کا مقابلہ کرنے کی زیادہ صلاحیت دی ہے۔
موڈیز کے اندازے کے مطابق مالی سال 2027 کے اختتام تک پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 19 سے 20 ارب ڈالر جبکہ مالی سال 2028 میں 20 سے 21 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔یہ پیش گوئی اس مفروضے پر مبنی ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف کے اصلاحاتی پروگرام پر عمل درآمد جاری رکھے گا، جس سے عالمی مالیاتی اداروں اور دیگر سرکاری شراکت داروں سے مالی معاونت حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔پاکستان کی بیرونی مالی کمزوری کا اشاریہ بھی بہتر ہوا ہے۔ 2025 میں یہ تقریباً 230 فیصد تھا جو 2026 میں کم ہوکر 145 فیصد رہ گیا، یعنی واجب الادا بیرونی قرض اور دستیاب زرمبادلہ کے درمیان فرق کم ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر قائم کرنے کا فیصلہ، فزیبلٹی اسٹڈی شروع
موڈیز کے مطابق پاکستان نے مالی سال 2026 میں اپنی تمام بیرونی ادائیگیاں بھی پوری کیں اور ساتھ ہی زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ جاری رکھا۔پاکستان عالمی قرض مارکیٹ میں بھی بتدریج واپس آ رہا ہے۔ اپریل 2026 میں 750 ملین ڈالر کا تین سالہ یورو بانڈ جاری کیا گیا، جبکہ مئی میں پہلی مرتبہ تقریباً 250 ملین ڈالر کے چینی یوان پانڈا بانڈ جاری کیے گئے۔ حکومتی قرضوں پر سود کی ادائیگی کا بوجھ بھی کم ہوا ہے۔ مالی سال 2026 میں حکومتی آمدن کا تقریباً 35 فیصد سود کی ادائیگی پر خرچ ہوا، جبکہ ایک سال پہلے یہ شرح 49 فیصد تھی۔
مہنگائی میں نمایاں کمی کے بعد اسٹیٹ بینک نے شرح سود کم کی۔ جولائی 2026 میں پالیسی ریٹ 11.5 فیصد تھا، جو جون 2023 سے مئی 2024 کے دوران 22 فیصد کی بلند ترین سطح پر برقرار رہا تھا۔ موڈیز کے مطابق آئندہ ایک سے دو برس کے دوران سود کی ادائیگی کا بوجھ حکومتی آمدن کے تقریباً 35 فیصد کے قریب رہ سکتا ہے، تاہم مالیاتی استحکام اور حکومتی قرضوں میں کمی کے باعث اس میں بتدریج بہتری متوقع ہے۔












