اسلام آباد(پاک ترک نیوز ) پاکستان نے جموں و کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دینے سے متعلق امریکی سفیر برائے بھارت سرجیو گور کے بیان پر شدید احتجاج کرتے ہوئے امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر کو وزارت خارجہ طلب کرلیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق امریکی ناظم الامور کو طلب کرکے امریکی سفیر کے دورہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے دوران دیے گئے بیان پر سخت ڈیمارش کیا گیا۔
پاکستان نے جموں و کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دینے کے بیان کو واضح طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے مستقبل کا حتمی فیصلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا ہے۔
پاکستان نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکی سفیر کا غیر ذمہ دارانہ بیان کشمیر تنازع پر امریکا کے دیرینہ اور دستاویزی مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتا، جبکہ یہ بیان بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی بالادستی سے متعلق امریکی عزم کے بھی منافی ہے۔
ترجمان کے مطابق پاکستان نے امریکا پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے عوامی بیانات میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے معرکہ حق کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع کے حل کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کو سراہا تھا۔
پاکستان نے امریکا پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت کے حوالے سے ذمہ دارانہ اور اپنے سابقہ مؤقف سے ہم آہنگ پوزیشن اختیار کرے











