اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) پاکستان نے ملک میں اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر قائم کرنے کے لیے فزیبلٹی اسٹڈی شروع کردی۔ عالمی توانائی کنسلٹنسی ووڈ میک کینزی کو مسابقتی بولی کے عمل کے بعد اس جائزے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کی زیر صدارت فزیبلٹی اسٹڈی کے آغاز کا اجلاس ہوا، جس میں اسٹڈی کے دائرہ کار، مقاصد، ٹائم لائن اور مجوزہ فریم ورک کا جائزہ لیا گیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ توانائی کا تحفظ حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے، کیونکہ توانائی کی بلاتعطل فراہمی ملکی سلامتی سے براہِ راست جڑی ہوئی ہے۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ پاکستان کو بیرونی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں سے خطرات کم کرنے اور توانائی کے بحران سے نمٹنے کی صلاحیت مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق حالیہ صورتحال نے بھی اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر کی اہمیت مزید اجاگر کردی ہے۔ اس اقدام کے ذریعے مستقبل میں تیل کی سپلائی متاثر ہونے کی صورت میں پاکستان کی تیاری اور توانائی کے تحفظ کو بہتر بنایا جائے گا۔
وزیر پٹرولیم کے مطابق فزیبلٹی اسٹڈی مکمل ہونے کے بعد حکومت کو بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری سے قبل حقائق اور شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے ایسی حکمت عملی وضع کرنے پر زور دیا جو پاکستان کی ضروریات کے مطابق عملی اور قابلِ عمل ہو، جبکہ اس بات کا بھی جائزہ لیا جائے کہ ذخیرہ کرنے کی صلاحیت مرحلہ وار قائم کی جاسکتی ہے یا نہیں۔ فزیبلٹی اسٹڈی میں ممکنہ ذخیرہ گاہوں کی تکنیکی استعداد، حفاظتی انتظامات، انفراسٹرکچر اور آپریشنل ضروریات کا جائزہ لیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا اور ایران میں نئی جنگ بندی پر اتفاق ،روسی میڈیا کا دعویٰ
اس کے علاوہ مختلف ممالک اور خطوں میں قائم اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر کے ماڈلز کا تقابلی جائزہ لیا جائے گا، جبکہ پالیسی، قانونی، مالی، تجارتی اور انتظامی فریم ورک بھی تیار کیا جائے گا۔






