اسلام آباد (پاک ترک نیوز )متحدہ اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا پہلا باضابطہ اجلاس ہوا، جس میں پاکستان تحریک انصاف نے جمعیت علمائے اسلام کو اپوزیشن اتحاد میں خوش آمدید کہا۔
اعلامیے کے مطابق دونوں پارلیمانی جماعتوں نے متحدہ اپوزیشن کے قیام اور مولانا فضل الرحمان کی شمولیت کے فیصلے کی مکمل توثیق کردی۔ اجلاس میں پارلیمنٹ کے اندر منظم، مؤثر اور مربوط مشترکہ کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
متحدہ اپوزیشن نے جماعتوں کے درمیان رابطے اور مشترکہ حکمتِ عملی کے لیے کوآرڈینیشن میکنزم تشکیل دینے پر اتفاق کیا، جبکہ قومی اہمیت کے معاملات پر مشترکہ پارلیمانی موقف اختیار کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آئین سے متصادم قانون سازی کے خاتمے کے لیے آئینی، قانونی اور پارلیمانی ذرائع استعمال کیے جائیں گے۔ امن و امان، مہنگائی، معاشی بحران اور صوبائی حقوق کے مسائل پارلیمنٹ میں مؤثر انداز سے اٹھانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
متحدہ اپوزیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے پارلیمنٹ میں قرارداد لانے کی تجویز پر بھی غور کیا، جبکہ اپوزیشن کی جدوجہد پارلیمنٹ کے ساتھ عوامی سطح پر بھی جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق اپوزیشن نے آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور پارلیمنٹ کی خودمختاری یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ تمام غیر آئینی قانون سازی واپس لینے اور عدلیہ کی آزادی کو متاثر کرنے والے اقدامات ختم کرنے پر بھی زور دیا گیا۔
اپوزیشن نے بانی پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو آئین و قانون کے مطابق فوری رہا کرنے، سیاسی بنیادوں پر قائم مقدمات ختم کرنے اور سیاسی کارکنوں کے خلاف انتقامی کارروائیاں بند کرنے کا مطالبہ کیا۔
اعلامیے میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان سمیت ملک بھر میں امن و امان کے لیے جامع حکمتِ عملی اختیار کرنے، افغانستان اور وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت بحال کرنے اور سرحدی تجارت کو فروغ دینے پر بھی زور دیا گیا۔
متحدہ اپوزیشن نے مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بحران کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات، صوبوں کے آئینی، مالی و انتظامی حقوق اور قدرتی وسائل پر ان کے حق کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کا وقت مناسب نہیں، اس معاملے پر قومی اتفاقِ رائے پیدا کیا جائے۔ قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور آئینی امور پر پارلیمنٹ کو مکمل اعتماد میں لینے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
متحدہ اپوزیشن نے آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے ذریعے حقیقی عوامی نمائندہ پارلیمان تشکیل دینے اور مسئلہ کشمیر کے سیاسی و پُرامن حل کے لیے اقدامات کرنے پر بھی زور دیا۔












