لاہور( پاک ترک نیوز) پاکستان کے مشہور آم جسے جنوبی ایشیا میں پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے، اس سال غیر معمولی مشکلات کا سامنا کر رہا ۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگی حالات نے پاکستانی آم کی برآمدات کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں کاشتکاروں، ٹھیکیداروں اور برآمد کنندگان کو بھاری مالی نقصان کا سامنا ہے۔
صوبہ سندھ کے آم پیدا کرنے والے اہم ضلع ٹنڈو الہٰ یار میں آم کی فصل پوری آب و تاب کے ساتھ تیار ہے۔ مزدور شدید گرمی میں درختوں سے آم توڑنے میں مصروف ہیں، تاہم اس بار آم کی بڑی مقدار بیرونِ ملک بھیجنے کے بجائے مقامی منڈیوں کا رخ کر رہی ہے۔
برآمد کنندگان کے مطابق اس سال آم کی برآمدات میں کم از کم 30 فیصد کمی متوقع ہے۔ اس کی بنیادی وجہ خلیجی ممالک، ایران اور افغانستان جیسے اہم خریدار ممالک میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال، جنگی حالات اور تجارتی رکاوٹیں ہیں۔
آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق پاکستان اپنی آم کی برآمدات کا تقریباً 80 فیصد خلیجی ممالک، ایران اور افغانستان کو بھیجتا ہے۔ لیکن حالیہ مہینوں میں ان تمام خطوں میں سیاسی و عسکری کشیدگی نے تجارت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق گزشتہ سیزن میں پاکستان نے تقریباً ایک لاکھ دس ہزار ٹن آم برآمد کیے تھے، جبکہ اس سال یہ مقدار کم ہو کر تقریباً اسی ہزار ٹن رہ جانے کا امکان ہے۔
جنگی حالات کے باعث افغانستان کی سرحد پر تجارت بھی تعطل کا شکار ہے۔ سینکڑوں مال بردار ٹرک سرحدی گزرگاہوں پر پھنسے ہوئے ہیں، جس سے برآمدی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پھلوں کا بادشاہ یا خاموش خطرہ؟
دوسری جانب آبنائے ہرمز کے گرد پیدا ہونے والی کشیدگی نے عالمی شپنگ انڈسٹری کو بھی متاثر کیا۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور بحری نقل و حمل کے خطرات کے باعث شپنگ اخراجات کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔
برآمد کنندگان کے مطابق گزشتہ سال 25 ٹن آم پر مشتمل ایک کنٹینر بیرونِ ملک بھیجنے کی لاگت تقریباً 1400 ڈالر تھی، جو اس سال بڑھ کر 6000 سے 7000 ڈالر تک جا پہنچی ہے۔
ادھر مقامی مارکیٹ میں آم کی فراوانی کے باعث قیمتیں نمایاں طور پر کم ہو گئی ہیں۔ کراچی سمیت مختلف شہروں میں آم تقریباً 200 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً نصف قیمت ہے۔
تاہم کم قیمتوں کے باوجود فروخت میں اضافہ نہیں ہو رہا۔ وجہ یہ ہے کہ جنگی اثرات اور مہنگائی کی نئی لہر نے عوام کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی شروع ہونے کے بعد مہنگائی کی شرح 5.5 فیصد سے بڑھ کر 10 فیصد تک پہنچ گئی، جس کے باعث عام شہری ضروریاتِ زندگی اور اضافی اخراجات کے درمیان توازن قائم کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔
کاشتکاروں اور تاجروں کا کہنا ہے کہ آم اگرچہ سستے ہو گئے ہیں، لیکن عوام کی ترجیح اب پھل نہیں بلکہ روزمرہ ضروریات ہیں۔ ان کے بقول موجودہ معاشی حالات میں بہت سے خاندان یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ پہلے روٹی خریدی جائے یا آم۔












