کینبرا(پاک ترک نیوز) پاکستان نے آسٹریلیا کی ایک وفاقی عدالت کی جانب سے باسمتی چاول کا ٹریڈ مارک حاصل کرنے کے حوالے سے بھارت ا کی ایک اپیل مسترد کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔
وزارت تجارت نے اس پیش رفت کے بعد اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس فیصلے کی بنیاد آسٹریلین رجسٹرار کا وہ فیصلہ ہے جس میں کہا گیا تھا کہ انڈین باسمتی چاول، دیگر تاجروں کی جانب سے قانونی طور پر پیدا اور فروخت کیے جانے والے باسمتی چاول سے الگ نہیں ہے۔چنانچہ اسکے ٹریڈ مارک حقوق بھارت کو نہیں دئیے جا سکتے۔
بھارت کی جانب سے آسٹریلیا کے متعلقہ ادارے ڈیلیگیٹ آف آسٹریلین رجسٹرار آف ٹریڈ مارکس میں باسمتی چاول کے ٹریڈ مارک حقوق لینے کے لئے درخواست دی تھی۔ تاہم پاکستانی چاول برآمد کرنے والوں کا مؤقف سننے کے بعد رجسٹرار نے باسمتی چاول کا ٹریڈ مارک حاصل کرنے کی بھارتی درخواست مسترد کر دی تھی۔ جس کے بعد بھارت نے اس فیصلے کو آسٹریلیا کی ایک وفاقی عدالت میں چیلنج کیا تھا۔تاہم آسٹریلوی وفاقی عدالت کی جانب سے بھی بھارت کی یہ اپیل اب مسترد کر دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں طویل مدتی منصوبہ بندی کا فقدان، حکومتی نظام بحرانوں تک محدود
اس ضمن میں وزارت تجارت کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کی وفاقی عدالت نے بھی بھارتی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس مؤقف کو تسلیم کیا ہے کہ باسمتی چاول صرفبھارت تک محدود نہیں بلکہ اسی چاول کی پیداوار پاکستان میں بھی ہوتی ہے اور پاکستانی کاروباری اداروں کو بھی اس کا نام استعمال کا حق حاصل ہے۔یہ پاکستان کے اس مؤقف کی کامیابی ہے کہ باسمتی تاریخی طور پر ایسے خطے میں کاشت ہوتا ہے جو پاکستان اور بھارت دونوں ملکوںکے مخصوص علاقوں پر مشتمل ہے۔اس لئے کسی ایک ادارے یا ملککو باسمتی کے لفظ پر کوئی ایسا خصوصی حق حاصل نہیں ہو سکتا۔ جس کے نتیجے میںدوسرے ملک کے کاشتکاروں اور برآمد کنندگان کو اس کے استعمال سے محروم کر دیا جائے۔











