تہران ( پاک ترک نیوز) امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان پھر متحرک ہو گیا، ایک طرف وزیر داخلہ محسن نقوی اہم دورے پر تہران میں موجود ہیں تو دوسری طرف عالمی سطح پر پاکستان کے سفارتی کردار کا اعتراف بھی ہونے لگا۔۔۔کیا پاکستان ایک بار پھر دو عالمی طاقتوں کے درمیان پل بننے جا رہا ہے؟۔۔۔ جانیے اس رپورٹ میں۔۔۔
امریکا ایران کشیدگی کے دوران پاکستان ایک مرتبہ پھر اہم سفارتی کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔۔۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی۔۔۔
ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور سکیورٹی سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا۔۔۔ پاکستان کے ساتھ مضبوط تعلقات علاقائی سکیورٹی میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔۔۔ایران کے پاکستان کے ساتھ تاریخی اور ثقافتی روابط دونوں ممالک کے تعلقات کی قیمتی بنیاد ہیں۔۔۔جبکہ سیاسی، تجارتی اور سکیورٹی تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔۔۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ایران اور پاکستان کے تعلقات مستحکم ہیں۔۔۔دورۂ ایران کے دوران وزیر داخلہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور اپنے ایرانی ہم منصب سکندر مومنی سے بھی ملاقاتیں کیں۔۔۔ملاقاتوں میں خطے کی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور زیر بحث آئے۔۔۔
دوسری جانب امریکا ایران جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کی گونج عالمی سطح پر بھی سنائی دینے لگی۔۔۔عالمی جریدے ساؤتھ ایشین وائسز کے مطابق۔۔۔ اسلام آباد معاہدے کے ذریعے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے پاکستان اور قطر کشیدگی کم کرنے کی بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اپنی سفارتی صلاحیت کے ذریعے ایران اور امریکا کو دوبارہ قریب لانے میں مدد کرسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی محکمہ خارجہ ہر ماہ 10ہزار غیرملکیوں کے ویزے منسوخ کر رہا ہے
امریکا کے ساتھ فوجی و اسٹریٹجک شراکت داری۔۔۔ اور ایران کے ساتھ تاریخی روابط۔۔۔ پاکستان کو ایک منفرد سفارتی مقام فراہم کرتے ہیں۔۔۔
رپورٹ کے مطابق پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی آغاز ہی سے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔۔۔پاکستان اور قطر جولائی میں ایران اور امریکا کو جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے مشترکہ تجارتی پیشکش بھی کرچکے ہیں۔
پاکستان ماضی میں بھی امریکا اور چین کے درمیان سفارتی روابط قائم کرانے اور ایران عراق جنگ کے دوران سفارتی کوششوں میں اہم کردار ادا کرچکا ہے۔












