ریاض ( پاک تر ک نیوز) سعودی عرب نے تیل کے بعد اب معدنیات کے شعبے میں بھی بڑی پیش رفت شروع کردی ۔ سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی اور کان کنی کی کمپنی نے ملک کے وسیع علاقے میں تانبا، زنک، سیسہ اور نایاب معدنیات تلاش کرنے کے لیے مشترکہ منصوبہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ سعودی حکومت کے مطابق ملک میں تقریباً 2.5 کھرب ڈالر مالیت کے ممکنہ معدنی وسائل موجود ہیں۔ سعودی عرب کی یہ حکمت عملی افریقہ کے معدنی دولت سے مالا مال ممالک کے لیے ایک نیا موقع بھی ہے اور ممکنہ مقابلہ بھی۔
سعودی عرب نے تیل اور گیس کے بعد اپنی معیشت کو معدنیات کے شعبے میں وسعت دینے کے لیے بڑا قدم اٹھا لیا۔سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو اور سعودی کان کنی کمپنی معادن نے معدنیات کی تلاش اور کان کنی کے لیے مشترکہ منصوبہ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
منصوبے کے تحت سعودی عرب کے تقریباً ایک لاکھ 82 ہزار مربع کلومیٹر رقبے میں معدنیات تلاش کی جائیں گی۔یہ رقبہ سعودی عرب کے مجموعی رقبے کا تقریباً دس فیصد بنتا ہے۔مجوزہ منصوبے میں معادن کا حصہ 51 فیصد جبکہ آرامکو کا حصہ 49 فیصد ہوگا۔ تانبا اس منصوبے میں بنیادی ہدف ہوگا، تاہم زنک، سیسہ اور نایاب معدنیات کی تلاش بھی کی جائے گی۔یہ معدنیات بجلی کے نظام، برقی گاڑیوں، قابل تجدید توانائی، معلوماتی مراکز اور دفاعی سازوسامان میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی ہیں۔
سعودی عرب کے لیے آرامکو کا تجربہ اس منصوبے میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔آرامکو نے تیل اور گیس کی تلاش کے دوران گزشتہ 90 برس سے زائد عرصے میں زمین کے اندر موجود چٹانوں اور معدنی ساخت سے متعلق وسیع معلومات جمع کی ہیں۔کمپنی کے پاس زیر زمین وسائل کی تلاش، کھدائی، جدید ٹیکنالوجی اور بڑے پیمانے پر منصوبے چلانے کا تجربہ بھی موجود ہے۔سعودی عرب اب تیل کی تلاش سے حاصل ہونے والے اسی تجربے کو معدنیات کی تلاش میں استعمال کرنا چاہتا ہے۔
دوسری جانب معادن کو سونے، فاسفیٹ، ایلومینیم اور دیگر معدنیات کی کان کنی اور صفائی کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔دونوں کمپنیوں نے اس سے پہلے لیتھیم کی تلاش کے لیے بھی تعاون کیا تھا، لیکن اب نئے منصوبے کا دائرہ مزید وسیع کردیا گیا ہے۔اس بار توجہ خاص طور پر تانبے اور دیگر اہم معدنیات پر مرکوز ہوگی۔سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں تقریباً 2.5 کھرب ڈالر کے ممکنہ معدنی وسائل موجود ہیں۔ان وسائل میں سونا، تانبا، فاسفیٹ، باکسائٹ اور نایاب معدنیات شامل ہیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق یہ رقم زمین سے ثابت شدہ یا فوری طور پر نکالے جانے والے ذخائر کی مالیت نہیں بلکہ ممکنہ معدنی وسائل کا حکومتی تخمینہ ہے۔حقیقی ذخائر جانچنے اور ان سے تجارتی بنیادوں پر معدنیات نکالنے کے لیے مزید سروے اور کھدائی کی ضرورت ہوگی۔سعودی عرب نے معدنیات کی تلاش کے لیے سرکاری سرمایہ کاری میں بھی نمایاں اضافہ کیا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق معدنیات کی تلاش پر سالانہ اخراجات 2020 میں تقریباً پانچ کروڑ 50 لاکھ ڈالر سے بڑھ کر 2024 میں 28 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئے۔
حکومت نے معدنیات کی تلاش کے لیے تقریباً 18 کروڑ ڈالر کا مالی معاونتی پروگرام بھی قائم کیا ہے۔اس پروگرام کے تحت اہل کمپنیوں کو معدنیات کی تلاش کے اخراجات کا 25 فیصد تک مالی تعاون فراہم کیا جاسکتا ہے۔سعودی عرب غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بھی معدنیات کے شعبے میں آنے کی ترغیب دے رہا ہے۔غیر ملکی سرمایہ کار سعودی عرب میں کان کنی کے کاروبار کی مکمل ملکیت رکھ سکتے ہیں۔اس کے علاوہ سرکاری صنعتی ترقیاتی ادارے کے ذریعے کان کنی کے منصوبوں کے لیے مطلوبہ سرمایہ کا 75 فیصد تک قرض بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔
ان مراعات سے سعودی عرب عالمی معدنیاتی صنعت کے لیے مزید پرکشش مقام بن رہا ہے۔سعودی عرب کی یہ پیش رفت افریقہ کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔افریقہ کے کئی ممالک تانبا، کوبالٹ، لیتھیم اور نایاب معدنیات کے بڑے ذخائر رکھتے ہیں۔زیمبابوے، نمیبیا، گھانا، تنزانیہ اور جمہوری جمہوریہ کانگو جیسے ممالک اب خام معدنیات برآمد کرنے کے بجائے اپنے ملک میں ان کی صفائی اور تیاری کرکے زیادہ آمدنی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کی عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں کھلا حملہ قرار
لیکن سعودی عرب اگر جدید کارخانوں، سستی مالی سہولتوں، توانائی اور بہتر بندرگاہوں کے ذریعے معدنیات کی عالمی صنعت میں اپنی جگہ بناتا ہے تو افریقی ممالک کو ایک نئے مقابلے کا سامنا ہوسکتا ہے۔افریقہ سے خام معدنیات سعودی عرب پہنچ کر وہاں صاف اور تیار کی جاسکتی ہیں، جس سے معدنیات کی زیادہ قدر اور روزگار کا بڑا حصہ سعودی عرب میں پیدا ہوگا۔
تاہم افریقی ممالک سعودی سرمایہ کاری کو اپنے ملکوں میں کارخانے اور بنیادی ڈھانچہ قائم کرنے کے لیے بھی استعمال کرسکتے ہیں۔سعودی عرب پہلے ہی افریقہ کے معدنیاتی شعبے میں دلچسپی رکھتا ہے۔سعودی عرب کی معدنیاتی سرمایہ کاری کرنے والی کمپنی نے زیمبیا میں تانبے اور نکل کے منصوبوں میں حصص خریدنے کے لیے بات چیت بھی کی تھی۔سعودی عرب نے زیمبیا، جمہوری جمہوریہ کانگو، مصر، مراکش اور جبوتی سمیت مختلف ممالک کے ساتھ معدنیات کے شعبے میں تعاون کے معاہدے بھی کیے ہیں۔وی او:سعودی عرب کی سب سے بڑی مکمل بین الاقوامی معدنیاتی سرمایہ کاری برازیل، کینیڈا اور انڈونیشیا کے معدنی منصوبوں سے منسلک کمپنی میں 2.5 ارب ڈالر کے عوض دس فیصد حصص کی خریداری ہے۔یہ سرمایہ کاری ظاہر کرتی ہے کہ سعودی عرب صرف اپنے ملک میں معدنیات تلاش کرنے تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی معدنیاتی وسائل تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے۔سعودی عرب کی نئی حکمت عملی کا مقصد صرف معدنیات نکالنا نہیں بلکہ تلاش، کان کنی، صفائی، تیاری اور عالمی منڈی تک رسائی کا مکمل نظام قائم کرنا ہے۔یوں سعودی عرب تیل سے حاصل ہونے والی دولت اور تجربے کو مستقبل کی معیشت میں استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔












