نیویارک : (پاک ترک نیوز)امریکی جریدے نیویارک ٹائمز نے اپنی تازہ تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ شدید تنازع کی لپیٹ میں آ چکا ہے، جہاں بھارت کے بڑھتے ہوئے سیاسی اثر و رسوخ نے عالمی کرکٹ کے فیصلوں کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق ورلڈ کپ کے دوران کھیل سے زیادہ سیاسی دباؤ نمایاں رہا، جس کے باعث میچز کی شیڈولنگ، ٹیموں کے فیصلے اور آئی سی سی کی پالیسیوں پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض اہم میچز کی منسوخی کا خطرہ اسی دباؤ کا نتیجہ ہے۔پاک بھارت میچ، جسے ورلڈ کپ کی مالی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے، غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ اس ایک مقابلے سے تقریباً 250 ملین ڈالر کی آمدن متوقع تھی، اور اس کے متاثر ہونے سے آئی سی سی کو بڑے مالی نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے۔
نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ پاکستان نے واضح مؤقف اپنایا کہ کھیل کو سیاست سے الگ رکھا جانا چاہیے۔ اسی اصولی مؤقف کے تحت پاکستان نے سخت ردعمل دیا، جبکہ بنگلہ دیش نے بھی پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے صورتحال پر تشویش ظاہر کی۔
امریکی جریدے کے مطابق بھارت اس وقت آئی سی سی کے مجموعی مالی منافع کا بڑا حصہ حاصل کرتا ہے، جس کے باعث ادارے کے اندر طاقت کا توازن متاثر ہوا ہے۔ رپورٹ میں اس امر کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ آئی سی سی کی قیادت میں بھارتی اثر و رسوخ کو عالمی سطح پر تنقید کا سامنا ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق میڈیا رائٹس ہولڈر کو ہونے والے بھاری نقصانات کے بعد آئی سی سی کو اپنے تقریباً 3 ارب ڈالر کے براڈکاسٹنگ معاہدوں پر نظرثانی پر مجبور ہونا پڑا، جو ایونٹ کی مالی پائیداری کے لیے خطرناک اشارہ ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی سیکیورٹی کشیدگی اور سفارتی تناؤ نے کرکٹ کو براہ راست متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں کھیل عالمی سیاست کے دباؤ تلے آ گیا ہے۔
نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ اگر آئی سی سی طاقتور ممالک کے سیاسی اثر سے آزاد ہو کر فیصلے نہ کر سکی تو عالمی کرکٹ کا مستقبل، اس کی شفافیت اور مالی استحکام شدید خطرے میں پڑ سکتا ہے۔












