کوپن ہیگن ( پاک ترک نیوز) سویڈن کی دفاعی کمپنی ساب نے جدید جنگی ٹیکنالوجی میں اہم پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق اس نے اپنے تیار کردہ مصنوعی ذہانت کے نظام کو گریپن ای جنگی طیارے میں اڑا کر آزمایا، جہاں اے آئی نے خودکار انداز میں طیارے کو کنٹرول کرتے ہوئے فضائی جنگی مشقوں میں حصہ لیا۔کمپنی کے مطابق ان تجربات میں ایسے فضائی مقابلے شامل تھے جن میں دشمن کا طیارہ پائلٹ کو براہِ راست نظر نہیں آتا، یعنی بیونڈ ویژول رینج جنگی صورتحال۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے مصنوعی ذہانت پرواز کے دوران فیصلے کرنے اور جنگی حکمتِ عملی اختیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر رہی ہے۔
ساب کا کہنا ہے کہ اس نے اے آئی ایجنٹس، ان کی تربیت کے ماحول اور معاون سافٹ ویئر خود تیار کیے ہیں۔ ان ایجنٹس کو کمپنی کی خصوصی اے آئی فائٹر پائلٹ اکیڈمی میں لاکھوں نہیں بلکہ کئی ملین گھنٹوں کی ورچوئل پروازوں اور مختلف جنگی حالات کی نقل کے ذریعے تربیت دی گئی ہے۔کمپنی کے مطابق گریپن ای کا جدید سافٹ ویئر آرکیٹیکچر نئی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کو براہِ راست آپریشنل جنگی طیارے میں شامل کرنے کی سہولت دیتا ہے، جس سے تجربات اور نئی صلاحیتوں کی تیاری کا عمل تیز ہو سکتا ہے۔ساب کے مطابق مستقبل میں یہ اے آئی سسٹم انسانی پائلٹ کی معاونت کر سکتا ہے، جبکہ بغیر پائلٹ کے جنگی طیاروں کے ساتھ مل کر بھی کارروائیاں انجام دے سکے گا۔
یہ بھی پڑھیں: جاتی امرا میں سرکاری اراضی پر قبضے کا کیس ، لاہور ہائیکورٹ کا زمین واگزار کرانے کا حکم
کمپنی کے حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل کی فضائی جنگ صرف ایک طیارے کی طاقت پر منحصر نہیں ہوگی، بلکہ انسانی پائلٹ والے اور خودکار ڈرون طیارے ایک مربوط نیٹ ورک کے طور پر مل کر کارروائیاں کریں گے۔












