واشنگٹن : (پاک ترک نیوز)غیر ملکی میڈیا کے مطابق اگرچہ ایران کے مذاکراتی مؤقف پر ڈونلد ٹرمپ کی مایوسی ایک ممکنہ امریکی حملے کے امکانات کو بڑھا رہی ہے۔ تاہم انہوں نے ابھی تک ایران کے خلاف حتمی فوجی کارروائی کا ابھی تک فیصلہ نہیں کیا۔
اسرائیل کا تاثر ہے کہ امریکی صدر ابھی اپنی آئندہ حکمتِ عملی کے بارے میں کسی آخری نتیجے پر نہیں پہنچے۔ اس ہفتے ہونے والے مذاکرات کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کے بعض بیانات نے عالمی میڈیا میں ہلچل پیدا کی ہے، تاہم اسرائیلی حکام کے مطابق یہ زیادہ تر سفارتی دباؤ اور سخت پیغام رسانی کا حصہ ہے، نہ کہ فوری حملے کا واضح اشارہ۔اطلاعات کے مطابق امریکہ بالآخر ایران پر حملہ کر سکتا ہے، لیکن آئندہ چند دنوں میں ایسا ہونا ضروری نہیں۔
عالمی میڈیا میں بڑھتا ہوئی “شور شرابہ” دراصل مذاکراتی ماحول اور امریکی حکام کے سخت لہجے کا نتیجہ ہے، نہ کہ کسی حتمی فوجی فیصلے کا۔
مزید برآں، صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کو نئی پیشکش کے لیے دی گئی دو ہفتوں کی مہلت پر بھی بحث جاری ہے۔ بعض حلقے اسے جون 2025 ءکی اُس مہلت سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں، جب دو ہفتوں کی ڈیڈ لائن محض ایک حکمتِ عملی ثابت ہوئی تھی اور امریکہ نے صرف 3دن بعد ایران کی فردو جوہری تنصیب پر حملہ کر دیا تھا۔
اس وقت امریکہ نسبتاً کم خطرے کی صورتِ حال میں تھا کیونکہ اسرائیل ایران کے بیشتر فضائی دفاعی نظام کو پہلے ہی ناکارہ بنا چکا تھا، جس کے بعد امریکی بی-2 بمبار طیاروں نے بغیر کسی بڑی مزاحمت کے فردو کو نشانہ بنایا۔
تاہم موجودہ حالات مختلف ہیں۔ اس بار صدر ٹرمپ ایک طویل اور پیچیدہ عسکری مہم کی قیادت کرنے پر غور کر رہے ہیں، جس میں امریکی فوجیوں کی جانوں، مہنگے بحری جہازوں اور خطے میں طویل المدتی عدم استحکام کا خطرہ موجود ہے۔
اس کے علاوہ حکومت کی تبدیلی جیسے بڑے اہداف کے حصول کی بھی کوئی ضمانت نہیں۔ان حالات میں بعض اسرائیلی حکام کا خیال ہے کہ موجودہ بیانات اور سخت لب و لہجہ دراصل ایران پر دباؤ بڑھانے اور آئندہ دو ہفتوں کی سنجیدگی واضح کرنے کی کوشش ہے، نہ کہ آنے والے دنوں میں کسی فوری حملے کا اعلان۔












