اسلام آباد: (پاک ترک نیوز)افغانستان کے اندر پاکستانی فوج کی حالیہ فضائی کارروائی سے پہلے کے ہفتوں میں دہشت گردی کے واقعات نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
6 فروری کو دارالحکومت اسلام آباد کی ایک مسجد میں جمعہ کی نماز کے دوران خودکش دھماکے میں کم از کم 36 نمازی شہید اور 170 زخمی ہوئے۔
چند دن بعد باجوڑ میں بارود سے بھری گاڑی نے سیکیورٹی چوکی کو نشانہ بنایا جس میں 11 فوجی اور ایک بچہ جاں بحق ہوا، جبکہ حملہ آور کو پاکستانی حکام نے افغان شہری قرار دیا۔
ان واقعات کے بعد پاکستان نے طالبان حکومت کو سخت سفارتی احتجاج ریکارڈ کرایا، مگر اس کے باوجود بنوں میں ایک اور خودکش حملے میں ایک لیفٹیننٹ کرنل سمیت 2 فوجی شہید ہوگئے۔
اس کے بعد پاکستان نے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے کا عندیہ دیتے ہوئے اتوار کی صبح سرحد پار کارروائی کی۔پاکستانی حکام کے مطابق ننگرہار اور پکتیکا میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کیے گئے حملوں میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا اور کم از کم 80 جنگجو مارے گئے۔
اسی دوران بھارت بھی منظر پر آگیا اور افغان خود مختاری کی حمایت کرتے ہوئے پاکستانی حملوں کی مذمت کی۔ نئی دہلی کے اس بیان نے اسلام آباد میں اس تشویش کو مزید بڑھا دیا کہ بھارت اور طالبان کے درمیان تعلقات تیزی سے مضبوط ہو رہے ہیں، جسے پاکستان اپنی داخلی سیکیورٹی صورتحال سے جوڑتا ہے۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان کی سرزمین اس کے خلاف استعمال ہو رہی ہے اور اس کے ٹھوس شواہد موجود ہیں، جبکہ طالبان حکومت ان الزامات کو مسلسل رد کرتی آئی ہے۔ گزشتہ سال قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی بھی اس کارروائی کے بعد عملاً ختم ہو گئی۔
ماہرین کے مطابق پاکستان ایک مشکل دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف سیکیورٹی فورسز پر بڑھتے حملوں کا دباؤ ہے تو دوسری طرف افغانستان کے ساتھ کشیدگی طالبان اور ٹی ٹی پی کو مزید قریب لا سکتی ہے۔
ادھر بھارت کی کابل کے ساتھ بڑھتی سفارتی اور انسانی امداد کی سرگرمیوں نے پاکستان کے سیکیورٹی خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔ ایسے وقت میں جب مشرقی سرحد پر بھی بھارت کے ساتھ کشیدگی موجود ہے اور خطے میں امریکا۔ایران تنازع کا خطرہ بڑھ رہا ہے، پاکستان کے لیے بیک وقت دونوں محاذوں کو سنبھالنا ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔












