تہران ( پاک ترک نیوز) ایران کا کہنا ہے کہ دشمن کیلئے ’سرپرائز‘ تیار ہیں، حملوں پر نئی فوجی ٹیکنالوجی سے جواب دیا جائے گا۔
پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں امریکی سمندری ڈرون قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے ۔پاسداران انقلاب کے مطابق امریکی سمندری ڈرون کی شناخت آر ای ایم یو ایس 600 کے نام سے ہوئی ہے، جسے سمندر میں بارودی سرنگوں کی تلاش اور جاسوسی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
ایرانی فوج کے سربراہ میجر جنرل امیر حاتمی کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی بلکہ یہ اس وقت ایک ’’اہم اور فیصلہ کن مرحلے‘‘ میں داخل ہوچکی ہے۔ انہوں نے ایرانی فوج کو مزید ممکنہ حملوں کے لیے تیار رہنے کی ہدایت بھی کی۔
امیر حاتمی نے ایک فوجی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ میں کامیاب رہا ہے، تاہم اس کامیابی کو مستحکم کرنا ضروری ہے۔ ان کے بقول مخالف فریق کو شدید نقصان پہنچا ہے، لیکن ایرانی فوج کو آئندہ کسی بھی ممکنہ حملے کا جواب دینے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
امیر حاتمی کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی، آبنائے ہرمز اور سفارتی رابطوں کے حوالے سے صورتحال غیر یقینی ہے۔ حال ہی میں ایرانی حکام نے کہا تھا کہ مسقط اور دیگر ثالثوں کے ذریعے امریکا کو ہرمز دوبارہ کھولنے اور جنگ کے خاتمے سے متعلق تجاویز پہنچائی گئی ہیں، جبکہ واشنگٹن کے جواب پر تہران کی نظریں ہیں۔ سمندریعلوم دریافت کریں
یہ بھی پڑھیں: اے آئی کی غلطی،امریکا چین آمنے آ گئے
ایرانی آرمی چیف نے مزید کہا کہ ایران ایک ایسا ملک ہے جو امریکا اور اسرائیل کے خلاف کھڑا ہے اور اس کے مطابق ایرانی عوام نے اپنی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کسی بھی بیرونی دباؤ یا خطے میں طاقت کے استعمال کو قبول نہیں کرے گا۔
ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے بھی کہا ہے کہ ایرانی مسلح افواج امریکا کی جانب سے کسی ممکنہ نئے حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ ان کے مطابق اگر امریکا نے دوبارہ حملہ کیا تو اسے پہلے سے زیادہ نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز بھی اس تنازع کا اہم مرکز بنی ہوئی ہے۔ امیر حاتمی نے کہا کہ ایران ایسی صورتحال قبول نہیں کرے گا جس میں ملک خود تجارت نہ کرسکے جبکہ دوسری طاقتیں خطے کے اہم بحری راستوں کو استعمال کرتی رہیں۔ ان کے مطابق ہرمز ایران کی عزت اور خودمختاری سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔












