واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) سوچیے۔۔۔ اگر جنگ کا بٹن انسان کے ہاتھ میں نہ ہو بلکہ ایک ایسی مشین کے ہاتھ میں ہو جو غلطی بھی کرسکتی ہے اور جھوٹا دعویٰ بھی پیدا کرسکتی ہے۔۔۔ تو کیا ہوگا؟امریکا اور چین جیسی دو بڑی طاقتوں کے درمیان کشیدگی میں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ایک غلط تجزیے نے خطرناک سوالات اٹھا دیے ہیں۔ایک ایسی رپورٹ سامنے آئی جس میں ایک چینی بحری جہاز کے سامان کو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری سے جوڑا گیا۔۔۔ لیکن بعد میں رپورٹ کے درست ہونے پر ہی سوال اٹھ گئے۔
رات کا وقت۔۔۔ سمندر میں ایک چینی بحری جہاز۔۔۔امریکی نگرانی سخت۔۔۔اور اچانک ایک اطلاع موصول ہوتی ہے کہ جہاز میں ایسا سامان موجود ہے جو ایران کے لیے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہوسکتا ہے۔یہ معمول کی اطلاع نہیں تھی۔۔۔اگر الزام درست ہوتا تو معاملہ براہِ راست امریکا، چین اور ایران تک جا پہنچتا۔ رپورٹ کی بنیاد پر کارروائی کی تیاری شروع ہوئی۔۔۔لیکن عین وقت پر ایک افسر نے رپورٹ کے انداز اور معلومات پر سوال اٹھا دیا۔تحقیقات ہوئیں تو معاملہ مزید حیران کن نکلا۔۔۔رپورٹ مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کی گئی تھی، اور مشین نے عام سامان کی تشریح کرتے ہوئے ایسے نتائج اخذ کیے جو حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات کے مثبت نتائج، امریکا اور چین میں تجارتی معاہدہ
یعنی جس اطلاع کو جنگی خطرہ سمجھا جا رہا تھا۔۔۔وہ ممکنہ طور پر مصنوعی ذہانت کی غلط تشریح تھی۔اب ذرا ایک لمحے کے لیے سوچیں۔۔۔اگر ایسی رپورٹ پر کارروائی ہوجاتی تو؟ایک چینی جہاز روکا جاتا۔۔۔چین اسے حملہ سمجھ سکتا تھا۔۔۔جوابی کارروائی ہوسکتی تھی۔۔۔اور پھر ایک غلط مشینی تجزیہ ایک بڑے عالمی تصادم کا سبب بن سکتا تھا۔
یہی وجہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے فوجی استعمال پر دنیا بھر میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔اگر مشین غلط شناخت کرے۔۔۔غلط ہدف تجویز کرے۔۔۔یا نامکمل معلومات سے خطرناک نتیجہ نکالے۔۔۔تو آخری فیصلہ کون کرے گا؟











