لاہور:(پاک ترک نیوز)آج بات ہو رہی ہے اُس جنگی طیارے کی جس نے اس وقت پوری دنیا کے دفاعی میڈیا میں ہلچل مچا رکھی ہے۔ وہ طیارہ جس کا نام بھارتی چینلز پر بار بار لیا جا رہا ہے، وہ طیارہ جسے بھارت آج اپنے لیے خطرے کی علامت قرار دے رہا ہے — اور وہ ہے JF-17 تھنڈر۔
دبئی ایئر شو میں جب بھارت کا مقامی جنگی طیارہ تیجس گر کر زمین بوس ہوا، تو اس کے بعد منظرنامہ ہی بدل گیا۔ بھارتی دفاعی اینکرز، ریٹائرڈ جرنیل اور اسٹریٹجک تجزیہ کار اب ایک ہی موضوع پر بات کر رہے ہیں:آخر JF-17 تھنڈر ایسا کیا ہے جو بھارت کے لیے مستقل دردِ سر بنتا جا رہا ہے؟
یہ دعویٰ صرف جذباتی نہیں، بلکہ بین الاقوامی دفاعی اداروں کی رپورٹس پر مبنی ہے۔انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز (IISS) سے وابستہ معروف ملٹری ایرو اسپیس ماہر ڈگلس بیری نے بی بی سی میں شائع ہونے والے تجزیے میں واضح کیا کہJF-17 تھنڈر اپنی کلاس میں مغربی ڈیزائن کے کئی طیاروں سے بہتر ثابت ہو چکا ہے۔
یہ ایک ملٹی رول، لائٹ ویٹ فائٹر جیٹ ہے، جو صلاحیتوں کے لحاظ سے F-16 اور یورپی گریپن کے برابر کھڑا ہے، مگر قیمت میں آدھے سے بھی کم ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ پہلی ترجیح بنتا جا رہا ہے۔اصل فرق یہاں آتا ہے۔مغربی طیاروں کے ساتھ سیاسی پابندیاں جڑی ہوتی ہیں۔ کہاں استعمال کرنا ہے، کس کے خلاف نہیں کرنا — سب کچھ طے شدہ۔مگر JF-17 تھنڈر ان تمام پابندیوں سے آزاد ہے، اور یہی اس کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
پینٹاگون کے سابق عہدیدار اور دفاعی ٹیکنالوجی کے ماہر ایلیکس پلائٹس کے مطابق،کسی بھی ملک کے لیے دفاعی خریداری میں سب سے اہم چیز سیاسی لچک اور آپریشنل آزادی ہوتی ہے، اور JF-17 ان دونوں پر پورا اترتا ہے۔2019، 2024 اور پھر مئی 2025 کی جھڑپوں میں JF-17 نے اپنی جنگی صلاحیت ثابت کی۔
الیکٹرانک وارفیئر، دشمن کے ریڈار کو جام کرنا، PL-15 میزائل، جدید ایویانکس —یہ سب JF-17 کو ایک خاموش مگر مہلک جنگی پلیٹ فارم بناتے ہیں۔اسی لیے آذربائیجان 40 طیارے لے چکا ہے،اور بنگلہ دیش، نائجیریا، سوڈان، عراق جیسے ممالک کی پہلی مانگ JF-17 بلاک تھری ہے۔
کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔JF-17 بلاک فور پر کام جاری ہے، جو پاکستان کا ففتھ جنریشن کی طرف اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔آج حقیقت یہی ہے:بھارت دفاعی میدان میں پیچھے رہ گیا ہے،اور جس نام کا خوف اس کے میڈیا پر چھایا ہوا ہے — وہ ہے JF-17 تھنڈر۔












