کراچی (پاک ترک نیوز)کراچی میں پاکستان رینجرز سندھ اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) پولیس نے بھتہ مافیا کے خلاف مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے صمد کاٹھیاواڑی گروپ کے اہم کارندے کو ہلاک جبکہ دو ملزمان کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا۔
رینجرز ترجمان کے مطابق جمشید ٹاؤن میں باغ جناح کے قریب کارروائی کے دوران ملزمان سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں زوہان عرف سانول ہلاک ہوگیا، جبکہ گرفتار ملزمان کی شناخت حسن عرف مرغی والا اور حسین عرف مونی کے نام سے ہوئی ہے۔
کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے اسلحہ اور ایمونیشن بھی برآمد کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق 2 اکتوبر کو ملیر کے میمن مال شاپنگ پلازہ پر بھتہ نہ دینے کے باعث فائرنگ کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں سکیورٹی گارڈ علی رضا جاں بحق اور ایک شخص زخمی ہوا تھا۔
اسی طرح 28 اکتوبر کو نشتر روڈ گارڈن میں زیر تعمیر عمارت پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک مزدور جاں بحق اور دو زخمی ہوئے تھے۔
دونوں واقعات کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ ٹیم تشکیل دی، جس نے سی سی ٹی وی فوٹیجز اور خفیہ معلومات کی مدد سے ملزمان کی شناخت کی۔
رینجرز ترجمان کے مطابق گرفتار ملزمان نے دوران تفتیش میمن مال پر بھتہ نہ دینے کے باعث فائرنگ کرنے اور صمد کاٹھیاواڑی کے کہنے پر کارروائی کرنے کا انکشاف کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم لیوی پرحکومت اور جماعت اسلامی کی کمیٹیوں کا اجلاس آج ہوگا
ملزمان نے بتایا کہ انہیں فائرنگ کے لیے 9 ایم ایم پستول اور 50 راؤنڈ فراہم کیے گئے تھے، جبکہ وہ زیر تعمیر عمارتوں اور کاروباری افراد کی معلومات بھی صمد کاٹھیاواڑی کو فراہم کرتے تھے۔
ترجمان کے مطابق بھتہ نہ دینے پر مزید عمارتوں اور کاروباری مقامات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔












