واشنگٹن (پاک ترک نیوز)لاک ہیڈ مارٹن نے بغیر جوہری وارہیڈ کے Mk21A ری انٹری وہیکل کا بحرالکاہل میں فلائٹ ٹیسٹ کیا ہے ، یہ امریکی سینٹینل بین البراعظمی بیلسٹک میزائل پروگرام کی تیاری میں اہم پیش رفت قرار دی جارہی ہے۔
امریکی دفاعی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن نے مستقبل کے جوہری صلاحیت کے حامل بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کے لیے تیار کیے جانے والے جدید ری انٹری وہیکل کا ایک اور کامیاب تجربہ کرلیا۔
کمپنی کے مطابق بغیر جوہری وارہیڈ کے Mk21A نے کیلیفورنیا کے وینڈن برگ اسپیس فورس بیس سے پرواز کے بعد بحرالکاہل کے اوپر آزمائشی سفر مکمل کیا۔ یہ ری انٹری وہیکل امریکی فضائیہ کے نئے ایل جی ایم 35 اے سینٹینل میزائل کا اہم حصہ ہے۔
سینٹینل میزائل مستقبل میں امریکہ کے پرانے منٹ مین تھری میزائلوں کی جگہ لے گا، جو 1970 سے امریکی زمینی جوہری دفاعی نظام کا حصہ ہیں۔ امریکی فضائیہ کے مطابق نئے میزائل کی رفتار راکٹ کے آخری مرحلے میں تقریباً 15 ہزار میل فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔
Mk21A میزائل کے اگلے حصے میں نصب ہوگا اور اس میں W87-1 جوہری وارہیڈ رکھنے کی گنجائش ہوگی۔ اسے اس انداز میں تیار کیا جارہا ہے کہ یہ خلا سے زمین کی فضا میں انتہائی تیز رفتار واپسی کے دوران پیدا ہونے والی شدید حرارت اور دباؤ برداشت کرسکے۔
تجربے کے دوران کسی جوہری وارہیڈ کا استعمال نہیں کیا گیا۔ امریکی فضائیہ اور لاک ہیڈ مارٹن نے اس آزمائش کے ذریعے ری انٹری وہیکل کے ڈیزائن اور جدید ٹیکنالوجی کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔
رپورٹ کے مطابق فضا میں دوبارہ داخل ہوتے وقت شدید حرارت سے تحفظ کے لیے خصوصی ہیٹ شیلڈ انتہائی اہم ہے، جبکہ اس کے الیکٹرانک نظام کو بھی سخت ترین حالات میں فعال رہنا ہوگا۔ انجینئرز ڈیزائن کی بہتری کے لیے جدید کمپیوٹر سمیولیشن اور سابقہ تجربات سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا استعمال کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کا ای چالان سسٹم لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج
Mk21A منصوبہ ایک ارب ڈالر سے زائد مالیت کے فوجی معاہدے کے تحت جاری ہے۔ اس کا اگلا اہم مرحلہ سسٹم لیول کریٹیکل ڈیزائن ریویو ہے، جس میں یہ جانچا جائے گا کہ گاڑی مطلوبہ کارکردگی کے معیار پر پورا اترتی ہے یا نہیں۔












