کراچی(پاک ترک نیوز ) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پورا ملک اس وقت مختلف مسائل کا شکار ہے، ایک طرف پیٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں تو دوسری جانب لوڈشیڈنگ جاری ہے، جبکہ غذائی صورتحال بھی تسلی بخش نہیں۔کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ زرعی معیشت کو بہتر بنانا حکومتوں کی ذمہ داری ہے، لیکن جب بھی کوئی بحران پیدا ہوتا ہے تو عارضی ریلیف دے کر مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے سے گریز کیا جاتا ہے۔ حکومت کی طویل اور قلیل مدتی پالیسیاں ناکام ہوچکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا آج اہم اجلاس ہورہا ہے، جس میں لانگ مارچ سے متعلق آئندہ کی حکمت عملی تشکیل دی جائے گی۔حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ حکومت جاگیرداروں، چینی، آٹا، گیس اور ریفائنری مافیا کو قابو کرنے میں ناکام ہے۔ بحران کے دوران عوام کو قربانی کا بکرا بنایا جاتا ہے، جبکہ بااثر مافیا کو تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔انہوں نے آئل ریفائنریز کے منافع میں اضافے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں آئل ریفائنریز کا منافع 11 گنا کیسے بڑھ گیا؟ عالمی بحران کے دوران منافع میں 1100 فیصد اضافہ کیسے ہوا؟ ان کے مطابق حکومت کو بحران کے دوران ریفائنریز کے منافع کی شرح کم کرنی چاہیے تھی۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ آئل ریفائنریز، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور پیٹرولیم ڈیلرز کے منافع میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ اس کا تمام بوجھ عوام برداشت کررہے ہیں۔ حکومت کو ناجائز منافع خوری اور مختلف ڈیوٹیز کے ذریعے عوام پر بوجھ ڈالنے والوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ مہنگے پیٹرول اور بجلی نے صنعتوں، چھوٹی صنعتوں اور عام شہریوں کے لیے مشکلات بڑھا دی ہیں۔ پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے ساتھ ہی اشیائے خورونوش کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں، لیکن حکومت کے پاس ضروری اشیا کی قیمتیں کنٹرول کرنے کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بلاول بھٹو آج اسلام آباد پہنچیں گے، حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور متوقع
انہوں نے کہا کہ مقامی حکومتوں کا ایسا مؤثر نظام بھی موجود نہیں جو بازاروں میں قیمتوں کو قابو میں رکھ سکے۔ ایل پی جی کی قیمت تقریباً 250 روپے ہونے کے باوجود مارکیٹ میں 500 سے 600 روپے میں فروخت ہورہی ہے۔حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ حکومت کی رٹ کا مطلب صرف آپریشن کرنا نہیں، بلکہ قیمتوں کو کنٹرول کرنا اور عوام کو ریلیف فراہم کرنا بھی ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ مافیا کو لگام دے اور عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔شرح سود میں اضافے پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پالیسی ریٹ میں مزید 0.5 فیصد اضافے سے صنعت کاروں اور برآمد کنندگان کی پریشانی بڑھ گئی ہے۔ حکومت نے شرح سود کو سنگل ڈیجٹ میں لانے کا وعدہ کیا تھا، لیکن اضافے سے کاروباری طبقے اور برآمد کنندگان کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت مہنگائی کے اسباب سے آگاہ ہے، لیکن عوام کو ریلیف دینے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے جارہے











