اسلام آباد: (پاک ترک نیوز)پاکستان میں جہاں غربت اور مہنگائی عام آدمی کی زندگی مشکل بنائے ہوئے ہیں، وہیں سڑکوں پر دوڑتی لگژری گاڑیاں ایک واضح تضاد کی تصویر پیش کر رہی ہیں۔
لیمبورگینی، فیراری، پورش اور دیگر مہنگی گاڑیاں بڑے شہروں میں کھلے عام نظر آتی ہیں، جن کے مالکان اکثر سوشل میڈیا پر بھی اپنی شاہانہ زندگی کی نمائش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
مگر کاغذات میں ان ہی افراد کی آمدن اتنی کم ظاہر کی جاتی ہے کہ وہ ان اثاثوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔اسی تضاد نے وفاقی حکومت کو ٹیکس نگرانی کے طریقہ کار میں بڑی تبدیلی پر مجبور کیا۔
ستمبر 2025 میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے خاموشی سے ایک خصوصی یونٹ، لائف اسٹائل مانیٹرنگ سیل (LMC) قائم کیا، جس کا مقصد عوامی سطح پر دکھائی دینے والی دولت کو ٹیکس گوشواروں سے ملانا ہے۔
یہ سیل روایتی کاغذی آڈٹ کے بجائے ڈیجیٹل اور اوپن سورس انٹیلی جنس پر انحصار کرتا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے فیس بک، ایکس، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب پر نظر رکھ کر ایسے افراد کی نشاندہی کی جاتی ہے جن کا لائف اسٹائل ان کی ظاہر کردہ آمدن سے کہیں زیادہ مہنگا نظر آتا ہے۔
حکام کے مطابق، سوشل میڈیا محض شواہد کا آغاز ہے، فیصلہ نہیں۔ایف بی آر نے کراچی، لاہور، فیصل آباد، ملتان اور حیدرآباد میں علاقائی دفاتر قائم کیے، جہاں تقریباً 40 تفتیشی افسران ڈیجیٹل نگرانی پر مامور ہیں۔
ابتدائی تین ماہ میں اس سیل نے 38 کیسز میں تقریباً 12.3 ارب روپے کے پوشیدہ اثاثے دریافت کیے۔
اعداد و شمار کے مطابق، سب سے زیادہ کیسز لگژری گاڑیوں سے متعلق ہیں۔ 19 کیسز صرف مہنگی گاڑیوں پر مبنی ہیں، جبکہ سات کیسز شاہانہ شادیوں، پانچ غیر ملکی سفروں، اور دیگر کیسز میں قیمتی موٹر سائیکلیں، گھوڑے اور اعلیٰ درجے کی خریداری شامل ہے۔
ان افراد نے نہ تو گاڑیاں ظاہر کیں اور نہ ہی ان پر آنے والے اخراجات ٹیکس گوشواروں میں شامل کیے۔کئی کیسز میں ایسے افراد سامنے آئے جن کے پاس اربوں روپے مالیت کی گاڑیوں کے فلیٹس تھے، مگر ان کے ٹیکس گوشواروں میں آمدن نہایت معمولی ظاہر کی گئی۔
لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں ایسے کیسز نمایاں ہیں، جن میں ایک فرد کے پاس 30 سے زائد لگژری گاڑیاں پائی گئیں جن کی مجموعی مالیت تقریباً 2.7 ارب روپے بتائی گئی۔
لگژری شادیوں کے کیسز بھی ایف بی آر کی نظر میں آئے، جہاں چند خاندانوں نے کروڑوں روپے کی تقاریب منعقد کیں، مگر ان کی ظاہر کردہ آمدن اس خرچ سے مطابقت نہیں رکھتی تھی۔ ٹیکس حکام نے ایونٹ پلانرز، جیولرز اور دیگر سروس فراہم کرنے والوں کے ڈیٹا سے اخراجات کا تخمینہ لگایا۔
اسی طرح، بار بار غیر ملکی سفر کرنے والے افراد بھی نگرانی میں آئے، جن کی آمدن مقامی سطح پر محدود تھی، مگر طرزِ زندگی مہنگا اور مسلسل سفر پر مبنی تھا۔ چند شوبز شخصیات کے کیسز بھی سامنے آئے جن میں گاڑیاں، قیمتی گھڑیاں اور بیرونِ ملک سفر شامل ہیں، مگر یہ سب ٹیکس ریکارڈ میں موجود نہیں۔
ایف بی آر کے مطابق، 70 فیصد سے زائد کیسز آڈٹ کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور متعلقہ افراد کو آمدن کے ذرائع ثابت کرنا ہوں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام شہرت یا نمائش کے خلاف نہیں بلکہ ٹیکس نظام کی ساکھ بحال کرنے اور ٹیکس چوری کے خاتمے کے لیے ہے۔مبصرین کے مطابق، ڈیجیٹل نگرانی کے اس نئے دور میں سوشل میڈیا پر لگژری لائف اسٹائل دکھانا اب محض نمائش نہیں بلکہ ٹیکس جانچ کی دعوت بھی بن سکتا ہے۔












