اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) ایف بی آر نے سوشل میڈیا پر غیر معمولی طرزِ زندگی اور دولت کی نمائش کرنے والے نان فائلرز کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں سوشل میڈیا مانیٹرنگ کا نیا نظام متعارف کرانے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق ایف بی آر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مہنگی گاڑیوں، موٹرسائیکلوں، بنگلوں، فارم ہاؤسز، قیمتی گھڑیوں اور مہنگی جیولری کی نمائش کرنے والے افراد کی سرگرمیوں پر نظر رکھے گا۔
ایسے افراد جن کا طرزِ زندگی آمدن کے مطابق ظاہر نہیں ہوگا اور جو نان فائلرز کی فہرست میں شامل ہوں گے، ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
ایف بی آر نے فیصلہ کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر دولت کی نمائش کرنے والے نان فائلرز کی الگ فہرستیں تیار کی جائیں گی۔ ان فہرستوں کی بنیاد پر متعلقہ افراد کو ٹیکس نوٹسز جاری کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق یہ نظام جدید ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور ڈیٹا اینالسس کے ذریعے کام کرے گا، جس میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور عوامی پوسٹس کا جائزہ لیا جائے گا۔
ایف بی آر کے مطابق یکم اکتوبر سے ایسے افراد کو نوٹسز جاری کیے جائیں گے جو سوشل میڈیا پر اپنی دولت اور طرزِ زندگی کی نمائش کرتے ہیں لیکن ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ شادیوں، قوالی نائٹس، موسیقی اور دیگر تقریبات میں دولت نچھاور کرنے والے افراد بھی ایف بی آر کی نگرانی میں ہوں گے۔ ایسے افراد کے خلاف بھی ٹیکس قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
حکام کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور ایسے افراد کو قانون کے دائرے میں لانا ہے جو آمدن کے باوجود ٹیکس ادا نہیں کرتے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس منصوبے پر مؤثر عمل درآمد کیا گیا تو اس سے ٹیکس وصولیوں میں اضافہ ممکن ہے، تاہم اس کے لیے واضح قانونی فریم ورک اور شفاف طریقہ کار انتہائی ضروری ہوگا۔












