لاہور(پاک ترک نیوز) بارہ گھنٹے ڈیوٹی، تیس دن کی مشقت اور مہینے کے آخر میں صرف تیس ہزار روپے! پاکستان میں ہزاروں سکیورٹی گارڈز سخت حالات میں ملازمت کرنے پر مجبور ہیں۔ سوال یہ ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں تیس ہزار روپے کمانے والا شخص اپنے بچوں کو کھانا کھلائے، گھر کا کرایہ دے یا بجلی کا بل ادا کرے؟ سکیورٹی گارڈز کے حقوق کا محافظ کون ہے؟ دیکھیے یہ خصوصی رپورٹ!
رات کی تاریکی ہو یا دن کی تپتی دھوپ
سردی ہو یا شدید بارش ،یہ شخص ہر وقت آپ کی حفاظت کیلئے کھڑا ہوتا ہے
مگر سوال یہ ہے کہ جو دوسروں کی حفاظت کرتا ہے، اس کے اپنے بچوں کے مستقبل کی حفاظت کون کرے گا؟
پاکستان میں کئی سکیورٹی گارڈز بارہ بارہ گھنٹے ڈیوٹی کرتے ہیں، لیکن بعض کو ماہانہ صرف تیس ہزار روپے تنخواہ ملتی ہے۔
یعنی روزانہ ایک ہزار روپے، اور بارہ گھنٹے کی ڈیوٹی کے حساب سے صرف تراسی روپے فی گھنٹہ!
سوچیے! جس شخص کے کندھوں پر لاکھوں روپے کی املاک کی حفاظت کی ذمہ داری ہو، وہ اپنے گھر کا خرچ کیسے پورا کرتا ہوگا؟
مکان کا کرایہ، بجلی اور گیس کے بل، بچوں کی فیس، دو وقت کی روٹی اور بیمار ہونے پر دوائی!
کیا یہ سب کچھ تیس ہزار روپے میں ممکن ہے؟
آخر سکیورٹی گارڈز سے بارہ گھنٹے ڈیوٹی کیوں لی جاتی ہے؟
کیا افرادی قوت کی کمی ہے؟ کیا کمپنیاں اخراجات بچانے کے لیے اضافی عملہ نہیں رکھتیں؟ یا پھر کمزور نگرانی کے باعث مزدوروں کے حقوق نظرانداز ہو رہے ہیں؟
قانونی طور پر عام اوقاتِ کار، اضافی ڈیوٹی اور اس کے معاوضے کے اصول موجود ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ ان پر عمل درآمد کون کروائے گا؟
ایک طرف مہنگائی کا طوفان، دوسری طرف محدود تنخواہ!
کئی گارڈز کے لیے اپنے بچوں کی ضروریات پوری کرنا بھی ایک مشکل امتحان بن جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 50ہزار تنخواہ۔گھر کیسے چلے گا؟
حکومت، محکمہ محنت اور سکیورٹی کمپنیوں سے سوال ہے!
کیا سکیورٹی گارڈز کو مقررہ کم از کم اجرت مل رہی ہے؟
کیا بارہ گھنٹے کام کرنے والوں کو اضافی ڈیوٹی کا معاوضہ دیا جاتا ہے؟
اور کیا ان کے لیے ہفتہ وار چھٹی اور طبی سہولت کا انتظام ہے؟
یاد رکھیے۔۔۔ جو شخص ہماری حفاظت کے لیے بارہ گھنٹے کھڑا رہتا ہے، وہ بھی انسان ہے، اس کے بھی بچے ہیں، اس کے بھی خواب ہیں
سکیورٹی گارڈ کو صرف بندوق اور وردی نہیں، عزت، مناسب تنخواہ اور قانونی حقوق بھی چاہییں











