اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) عالمی مالیاتی ادارے نے اپنی تازہ ترین علاقائی معاشی جائزہ رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ طویل ہوئی تو سن دو ہزار ستائیس تک خام تیل کی قیمتیں ایک سو تیس فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔ رپورٹ میں پاکستان میں بڑھتی ہوئی گرانی کے پیشِ نظر سخت معاشی پالیسی اپنانے اور شرحِ سود کے حوالے سے مناسب اقدامات برقرار رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔
عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں مصر اور پاکستان اس وقت مہگائی کے شدید ترین دباؤ کا شکار ہیں۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان میں اگست کے دوران گرانی کی شرح گیارہ اعشاریہ ایک فیصد ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع سے پاکستان سمیت دیگر توانائی درآمد کرنے والے ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان خطے کا واحد ملک ہے جس نے اس تنازع کے پیدا ہونے کے بعد اپنی شرحِ سود میں اضافہ کیا۔ عالمی ادارے نے واضح کیا کہ کرغزستان اور پاکستان میں شرحِ سود تاحال مطلوبہ سطح سے نیچے ہے، جس کے باعث مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مزید سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔
علاقائی جائزہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی اور علاقائی کشیدگی کے باوجود پاکستان میں پردیس سے بھیجی جانے والی رقم اور سیاحت کا شعبہ تاحال مستحکم ہے، تاہم صنعتی پیداوار میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے پرائیویٹ میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلوں کا شیڈول جاری
عالمی مالیاتی ادارے کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کی وجہ سے خطے کی مجموعی توانائی پیداوار، بحری تجارت، سیاحت اور لین دین بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ جنگ کے باعث تیل برآمد کرنے والے ممالک معاشی طور پر زیادہ متاثر ہوئے ہیں، جبکہ توانائی درآمد کرنے والے ممالک نسبتاً محفوظ رہے۔ادارے کے تخمینے کے مطابق، خطے کی معیشت رواں سال ایک اعشاریہ تین فیصد سکڑے گی، تاہم سن دو ہزار ستائیس تک چھ اعشاریہ چھ فیصد کی معاشی بحالی متوقع ہے۔ لیکن اگر جنگ طویل ہوتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ عالمی اور علاقائی معیشتوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔












