اسلام آباد (پاک ترک نیوز ) وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے اپوزیشن لیڈر کے بیان پر جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی کسی سے کوئی ذاتی مخالفت نہیں، سیاسی اختلافات کو ذاتی دشمنی نہیں سمجھنا چاہیے۔
طارق فضل چودھری نے کہا کہ 9 مئی پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا، جی ایچ کیو پر حملہ کرنے کی کوشش کی گئی، سب کچھ ریکارڈ پر موجود ہے۔ حملوں کے نتیجے میں کچھ فیصلے اور سزائیں ہوئیں، سزائیں عدالت نے دی ہیں اور ریلیف بھی عدالت ہی دے سکتی ہے۔
وزیر پارلیمانی امور کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات کبھی ذاتی اختلاف نہیں ہوتے، یاسمین راشد ہمارے لیے قابلِ احترام ہیں، تاہم 9 مئی کو وہ کور کمانڈر کے گھر کے بعد پائی گئیں۔
طارق فضل چودھری نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر من و عن عملدرآمد ہوگا۔ حکومت عدالت سے صرف یہ وضاحت چاہتی ہے کہ نجی ہسپتال منتقل کرنے کا حکم تمام قیدیوں کے لیے ہے یا صرف بانی پی ٹی آئی کے لیے۔
طارق فضل چودھری نے کہا حکومت اس بات کی پابند ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو سرکاری ہسپتال میں علاج کی سہولت فراہم کرے، اور اگر سرکاری ہسپتال میں ممکن نہ ہو تو دیگر ہسپتال میں علاج کرایا جائے گا۔
طارق فضل چودھری نے مزید کہا کہ اگر ضرورت ہوئی تو بانی پی ٹی آئی کو علاج کے لیے بیرون ملک بھی بھیجا جائے گا، حکومت صرف سپریم کورٹ سے رہنمائی چاہتی ہے











