اسلام آباد(پاک ترک نیوز ) چیئرمین نیپرا وسیم مختار نے بجلی کی طلب کے تخمینوں میں نمایاں فرق پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بجلی پیدا کرنے کی مستقبل کی صلاحیت کو موجودہ اور متوقع طلب کے مطابق رکھنے کے لیے شفاف اور قابلِ اعتماد طریقہ کار بنانے پر زور دیا ہے۔
نیپرا چیئرمین نے مربوط نظام منصوبہ 2025 تا 2035 کے حوالے سے اضافی نوٹ میں کہا کہ مستقبل میں ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت پیدا ہونے کا خدشہ سنجیدہ توجہ کا متقاضی ہے، تاہم متعلقہ ادارے ان خدشات کا تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہے۔
وسیم مختار کے مطابق بجلی کی فروخت میں مسلسل کمی اور بجلی گھروں کے کم استعمال نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کے اخراجات کم بجلی فروخت ہونے کے باعث فی یونٹ مزید بڑھ رہے ہیں، جس سے صارفین پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔
چیئرمین نیپرا نے کہا کہ مہنگی بجلی کے باعث صارفین نسبتاً سستے متبادل ذرائع، خصوصاً گھروں کی چھتوں پر شمسی توانائی، کی طرف منتقل ہو رہے ہیں اور قومی بجلی کے نظام کو زیادہ تر متبادل ذریعے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق یہ ایک ایسا مسلسل چکر بن چکا ہے جس میں بجلی کی طلب میں کمی سے پیداواری صلاحیت کا استعمال کم ہوتا ہے، فی یونٹ صلاحیتی اخراجات بڑھتے ہیں اور صارفین مزید قومی نظام سے دور ہوتے جاتے ہیں۔ اس صورتحال سے بجلی کی استطاعت، کارکردگی اور شعبے کی طویل مدتی پائیداری متاثر ہو رہی ہے۔
وسیم مختار نے بتایا کہ حالیہ ایندھن اخراجات میں ردوبدل کی سماعت کے دوران متعلقہ ادارے نے بتایا کہ دن کے اوقات میں بجلی کی طلب تقریباً 12 ہزار میگاواٹ تک کم ہوچکی ہے، جو بڑی حد تک ان بجلی گھروں کی پیداوار کے برابر ہے جنہیں ہر حال میں چلانا ضروری ہوتا ہے۔
چیئرمین نیپرا نے کہا کہ صارفین کے بدلتے ہوئے رویوں اور متبادل توانائی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیش نظر قومی نظام سے حاصل ہونے والی بجلی کی لاگت کم کرنا ضروری ہے تاکہ صارفین کو دوبارہ قومی بجلی کے نظام سے منسلک رہنے اور اسے بہتر انداز میں استعمال کرنے کی ترغیب مل سکے۔
انہوں نے بجلی کی ترسیل کے نظام میں رکاوٹوں کی بھی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ناکافی ترسیلی صلاحیت کے باعث نسبتاً سستی بجلی بڑے شہروں اور اہم مراکز تک منتقل نہیں ہوپاتی۔












