لاہور( پاک ترک نیوز) چاند پر کیا چھپا ہے؟
کیا وہاں اربوں سال پرانی برف موجود ہے؟کیا مستقبل میں انسان چاند پر موجود پانی اور وسائل کو استعمال کرسکے گا؟ان سوالوں کے جواب تلاش کرنے کے لیے ناسا نے اب ایک ایسا قدم اٹھا لیا ہے جو خلائی تحقیق کی دنیا بدل سکتا ہے۔چاند۔۔۔ جسے انسان صدیوں سے دیکھتا آیا ہے،لیکن اب اسی چاند کے راز کھولنے کے لیے انسان نے مصنوعی ذہانت کو میدان میں اتار دیا ہے۔ناسا اور آئی بی ایم نے چاند کی تحقیق کے لیے جدید مصنوعی ذہانت کا بنیادی نظام تیار کرلیا ہے، جو چاند کی سطح پر موجود بے شمار معلومات کا چند لمحوں میں تجزیہ کرنے میں سائنس دانوں کی مدد کرے گا۔
یہ نظام چاند کی سطح کے نقشے بنانے، گڑھوں کی شناخت کرنے، آتش فشانی آثار تلاش کرنے اور سب سے بڑھ کر چاند کے قطبی علاقوں میں برف کی ممکنہ موجودگی کا سراغ لگانے میں مدد دے سکتا ہے۔سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ اس مصنوعی ذہانت کی تربیت چاند کے گزشتہ 17 برس کے مشاہداتی ڈیٹا سے کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 40منزلہ راکٹ ،5ہزار ٹن ایندھن ،انسان کا سب سے خطرناک خلائی منصوبہ
ناسا کے لُونر ریکونیسنس آربیٹر سے حاصل ہونے والی تقریباً 20 لاکھ تصویری معلومات کو مصنوعی ذہانت کی تربیت کے لیے استعمال کیا گیا۔یعنی چاند کی سطح کا اتنا وسیع ڈیٹا ایک ایسے نظام کو سکھایا گیا ہے جو اب خود چاند کی سطح میں چھپی اہم نشانیاں تلاش کرسکتا ہے۔اور یہاں سے شروع ہوتی ہے اصل کہانی۔۔۔چاند کے ایسے علاقے جہاں سورج کی روشنی کبھی نہیں پہنچتی، وہاں درجہ حرارت انتہائی کم رہتا ہے۔سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ان مستقل تاریک علاقوں میں اربوں سال سے برف محفوظ ہوسکتی ہے۔اگر مصنوعی ذہانت ان علاقوں میں برف کے ذخائر کی درست نشاندہی کرنے میں کامیاب ہوگئی تو یہ مستقبل کی خلائی تحقیق کے لیے انتہائی اہم پیش رفت ہوسکتی ہے۔
کیونکہ پانی صرف پینے کے لیے ہی نہیں۔۔۔بلکہ مستقبل میں چاند پر انسانی قیام اور خلائی سفر کے لیے بھی انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔مصنوعی ذہانت چاند کے قدیم آتش فشانی آثار کا بھی سراغ لگا سکتی ہے۔ اسی طرح چاند کی سطح پر موجود لاکھوں گڑھوں کی شناخت اور پیمائش بھی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے ممکن ہوگی۔












