واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) امریکی خلائی ادارے ناسا نے کیلیفورنیا کی سلیکون ویلی میں چاند پر خلائی جہاز اتارنے کی مشق کے لیے تیار کردہ جدید سمیولیشن نظام کے دورے پر میڈیا نمائندوں کو مدعو کر لیا ہے۔ یہ دورہ 29 اور 30 اکتوبر کو ناسا کے ایمز ریسرچ سینٹر میں ہوگا۔ناسا کے مطابق اس نظام کے ذریعے خلابازوں اور انجینئرنگ ٹیموں کو چاند کی سطح پر انسان بردار خلائی جہاز اتارنے سے پہلے مصنوعی ماحول میں تربیت دی جا رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے ادارے کے اپنے اور شراکت داروں کے تیار کردہ موشن سمیولیٹرز استعمال کیے جا رہے ہیں، تاکہ خلاباز حقیقی مشن سے قبل لینڈنگ کے مختلف مراحل کا تجربہ حاصل کر سکیں۔
میڈیا نمائندوں کو دورے کے دوران ورٹیکل موشن سمیولیٹر میں سواری اور متعلقہ ماہرین سے انٹرویو کرنے کا موقع بھی فراہم کیا جائے گا۔ شرکت کے خواہش مند صحافیوں کو 27 اکتوبر شام 5 بجے تک پیسیفک ٹائم کے مطابق ناسا کے ایمز نیوز روم کو ای میل کے ذریعے اپنی رجسٹریشن کی درخواست بھیجنا ہوگی۔ شرکا کی تعداد محدود ہونے کے باعث پیشگی رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے۔ناسا کے مطابق لینڈنگ سمیولیشن نظام ہیوسٹن میں قائم جانسن اسپیس سینٹر نے تیار کیا، جسے ایمز ریسرچ سینٹر کے جدید بنائے گئے سمیولیٹر فلائٹ ڈیک میں نصب کیا گیا ہے۔ناسا کے آرٹیمس پروگرام کے تحت 2028 میں چاند پر اگلی لینڈنگ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے خلابازوں کو چاند کے جنوبی قطب کے قریب بتدریج زیادہ پیچیدہ مشنز پر بھیجا جائے گا، تاکہ چاند کے ان علاقوں کی تحقیق کی جا سکے جہاں پہلے اس پیمانے پر تلاش نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو کے اختیارات وسیع کرنےکی مخالفت
ناسا کا کہنا ہے کہ چاند کے مشنز سے سائنسی تحقیق کو فروغ دینے اور معاشی فوائد حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ چاند کی سطح پر انسانوں کی مستقل موجودگی قائم کرنے کی بنیاد بھی رکھی جائے گی۔ یہ کوششیں مستقبل میں مریخ پر پہلے انسان بردار مشن کی تیاری میں بھی مددگار ثابت ہوں گی۔












