انقرہ( پاک ترک نیوز) ترکیہ نے جنوب مشرقی یورپ کے خطے بلقان میں پائیدار امن، استحکام اور معاشی ترقی کے لیے اپنا کردار مزید مؤثر بنانے پر زور دیا ہے۔ ترکیہ کی جغرافیائی اہمیت، نیٹو کی رکنیت، سفارتی تعلقات اور اقتصادی روابط اسے خطے میں اہم اثر و رسوخ فراہم کرتے ہیں۔
ترک مؤقف کے مطابق بلقان اس وقت نہ مکمل سکیورٹی بحران کا شکار ہے اور نہ ہی خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکا ہے۔ سیاسی تقسیم، کمزور ادارے، حل طلب تنازعات اور معاشی عدم تحفظ خطے میں دوبارہ کشیدگی کا خطرہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سربیا اور بوسنیا ہرزیگووینا کی صورتحال بلقان کو درپیش چیلنجز کی عکاسی کرتی ہے۔ سربیا میں سیاسی تبدیلیوں کے امکانات کے ساتھ شفاف حکمرانی اور ہمسایہ ممالک سے بہتر تعلقات کی ضرورت ہے، جبکہ بوسنیا میں ڈیٹن امن معاہدے کے باوجود سیاسی اختلافات اور ادارہ جاتی پیچیدگیاں حکومتی نظام کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔
ترکیہ کا مؤقف ہے کہ صرف فوجی طاقت اور دفاعی اقدامات خطے میں مستقل امن کی ضمانت نہیں دے سکتے، اس کے لیے سیاسی مذاکرات، جمہوری اداروں کی مضبوطی اور قانون کی حکمرانی بھی ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انتخابی اصلاحات کمیٹی کے لیے سینیٹ کی نشستوں کی تقسیم کا فارمولا طے
بلقان میں ترکیہ کا دفاعی کردار بھی اہم ہے۔ ترکیہ نیٹو کے کوسوو فورس (KFOR) اور بوسنیا میں یورپی یونین کے زیرقیادت EUFOR Althea مشن میں شریک ہے، جن کا مقصد خطے میں امن و سلامتی برقرار رکھنا اور ممکنہ کشیدگی کو روکنا ہے۔
ترکیہ نے 2025 میں بلقان پیس پلیٹ فارم بھی شروع کیا، جس میں ترکیہ سمیت مغربی بلقان کے چھ ممالک شامل ہیں۔ اس پلیٹ فارم کا مقصد علاقائی مذاکرات، باہمی اعتماد اور مشترکہ مسائل کے حل کے لیے تعاون کو فروغ دینا ہے۔
معاشی محاذ پر بھی ترکیہ کے روابط نمایاں ہیں۔ بلقان ممالک کے ساتھ اس کی تجارت کا حجم تقریباً 35 ارب ڈالر بتایا گیا ہے، جبکہ ترک سرمایہ کاری کے تخمینے مختلف طریقہ کار کے تحت 8.6 ارب سے 24.6 ارب ڈالر تک ہیں۔











