لاہور( پاک ترک نیوز) حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد عوام میں ایک اہم سوال گردش کر رہا ہے کہ جب پٹرول کا سٹاک پہلے سے موجود تھا تو پھر قیمتیں کیوں بڑھائی گئیں؟ کیا یہ اضافہ واقعی عالمی منڈی کی وجہ سے تھا یا اس کے پیچھے کوئی اور عوامل بھی کارفرما ہیں؟ دیکھیے ہماری یہ خصوصی رپورٹ۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر ملک میں پہلے سے پٹرول کا ذخیرہ موجود تھا تو قیمتوں میں فوری اضافہ سمجھ سے بالاتر ہے۔مہنگائی پہلے ہی بہت زیادہ ہے، پٹرول مہنگا ہونے سے ہر چیز کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر اور ٹیکسز کی بنیاد پر کرتی ہے۔ تاہم عوام کا مؤقف ہے کہ اگر پٹرول پرانے نرخوں پر خریدا گیا تھا تو اس کا فائدہ عوام کو ملنا چاہیے تھا۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ قیمتوں کے تعین میں شفافیت ضروری ہے تاکہ عوام کو معلوم ہو سکے کہ اضافہ کن وجوہات کی بنیاد پر کیا گیا۔
عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت پٹرولیم قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کو واضح کرے اور اگر اسٹاک پرانی قیمتوں پر موجود تھا تو اس کا ریلیف عوام تک پہنچایا جائے۔
دوسری طرف ملک میں پٹرول کی قیمتیں پہلے ہی عوام کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں، مگر حیران کن طور پر اب کئی علاقوں میں پٹرول دستیاب بھی نہیں۔ مہنگا ہونے کے باوجود پٹرول کی قلت نے شہریوں کو شدید مشکلات میں مبتلا کر دیا۔ ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ گھنٹوں انتظار کرنے کے باوجود پٹرول حاصل نہیں کر پا رہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ متعلقہ حکام اس مسئلے کے حل کے لیے کیا اقدامات کرتے ہیں۔












