واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) دنیا کے جدید ترین پانچویں نسل کے جنگی طیاروں میں شمار ہونے والے ایف-35 لائٹننگ ٹو کی سب سے بڑی طاقت اس کی اسٹیلتجھ صلاحیت ہے یعنی دشمن کے جدید ریڈار سے خود کو چھپانے کی قابلیت۔ یہی وجہ ہے کہ اس طیارے کی بیرونی سطح پر معمولی نقصان بھی انتہائی حساس معاملہ سمجھا جاتا ہے، اور اس کی مکمل مرمت متعلقہ ممالک اپنی مرضی سے نہیں کر سکتے بلکہ اس کے لیے امریکی دفاعی کمپنی کی براہِ راست نگرانی یا منظوری ضروری ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق عام تاثر یہ ہے کہ ایف-35 کی اسٹیلتھ صلاحیت صرف ایک خاص قسم کے رنگ کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ اسٹیلتھ دراصل طیارے کے پورے ڈیزائن، مخصوص زاویوں، اندرونی ہتھیاروں کے نظام، خصوصی دھاتوں، ریڈار جذب کرنے والے مواد اور انتہائی باریک سطحی ساخت کا مجموعہ ہے۔
ایف-35 کی بیرونی تہہ عام فوجی طیاروں کی طرح صرف رنگ نہیں بلکہ ایک ایسا پیچیدہ مواد ہے جو ریڈار سے آنے والی برقی مقناطیسی لہروں کو جذب یا منتشر کرتا ہے، جس سے دشمن کے ریڈار پر طیارے کی موجودگی انتہائی کم ظاہر ہوتی ہے۔
اگر اس سطح پر معمولی خراش، دراڑ یا نقصان بھی ہو جائے تو صرف رنگ کرنا کافی نہیں ہوتا بلکہ متاثرہ حصے کو ملی میٹر کی درستگی کے ساتھ دوبارہ بنایا جاتا ہے تاکہ طیارے کی شکل، ہمواری اور ریڈار سے بچنے کی صلاحیت برقرار رہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا جدید سٹیلتھ طیارہ زیر بحث ،دفاعی حلقوں میں ہلچل
امریکی فضائیہ کے ماہرین کے مطابق اسٹیلتھ کوٹنگ کی مرمت انتہائی صبر آزما اور مہارت طلب کام ہے۔ ٹیکنیشن ہاتھ سے تہہ در تہہ مواد لگاتے ہیں، پھر باریک سینڈنگ، شکل کی درستگی اور خصوصی کوٹنگ کا عمل مکمل کرتے ہیں۔
اگرچہ ایف-35 استعمال کرنے والے ممالک روزمرہ معائنہ، معمولی مرمت اور بنیادی دیکھ بھال خود انجام دیتے ہیں، لیکن اسٹیلتھ سسٹم کی بڑی مرمت کے لیے انہیں لاک ہیڈ مارٹن کے منظور شدہ طریقہ کار پر عمل کرنا پڑتا ہے۔
اس کی کئی وجوہات ہیں ،اسٹیلتھ ٹیکنالوجی انتہائی خفیہ اور حساس دفاعی ٹیکنالوجی ہے۔اس کے مواد، تیاری اور مرمت کے طریقے کمپنی کی دانشورانہ ملکیت ہیں ،ہر طیارے کی کارکردگی کو عالمی معیار کے مطابق برقرار رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ایف-35 کی اسٹیلتھ مرمت کرنے والے اہلکاروں کو خصوصی تربیت دی جاتی ہے۔ وہ صرف لاک ہیڈ مارٹن کی فراہم کردہ تکنیکی ہدایات، مخصوص مواد اور منظور شدہ آلات استعمال کرتے ہیں تاکہ دنیا کے کسی بھی ملک میں موجود ایف-35 ایک ہی معیار کی اسٹیلتھ صلاحیت برقرار رکھ سکے۔
ماہرین کے مطابق اگر ہر ملک اپنی مرضی سے اسٹیلتھ کوٹنگ یا مرمت کا طریقہ اختیار کرے تو مختلف ممالک کے ایف-35 طیاروں کی کارکردگی میں فرق آ سکتا ہے، جس سے مشترکہ فوجی آپریشنز، لاجسٹکس اور مستقبل کی اپ گریڈیشن متاثر ہو سکتی ہے۔
اسی لیے بڑی مرمت، انجینئرنگ سپورٹ اور اسٹیلتھ سسٹم کی توثیق لاک ہیڈ مارٹن اور ایف-35 کے مشترکہ پروگرام آفس کی نگرانی میں کی جاتی ہے۔
دنیا بھر میں اس وقت 1,100 سے زائد ایف-35 طیارے مختلف ممالک کی فضائی افواج میں خدمات انجام دے رہے ہیں، مگر ان کی سب سے اہم دفاعی برتری یعنی اسٹیلتھ صلاحیت کو برقرار رکھنے کے لیے مکمل خودمختاری کسی بھی آپریٹر کو حاصل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جدید ترین اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کی حفاظت، یکساں معیار اور قومی سلامتی کے تقاضوں کے تحت اس کی پیچیدہ مرمت آج بھی بڑی حد تک لاک ہیڈ مارٹن کے کنٹرول میں ہے۔












