تہران ( پاک ترک نیوز) علی خامنہ ای کے جنازے میں "نقاب پوش” شخصیت کون تھی؟ نئی تفصیلات سامنے آگئیں۔
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے شہداء کے خون کا بدلہ لینے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔ ان سے منسوب بیان میں کہا گیا کہ ایران اپنے شہداء کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دے گا اور جنگ میں جان دینے والے تمام افراد کے خون کا حساب لیا جائے گا۔ مزید کہا گیا کہ ذمہ دار افراد کی نشاندہی ہو چکی ہے اور مناسب وقت پر انہیں اپنے اعمال کا جواب دینا ہوگا۔
دوسری جانب بین الاقوامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایک اور دعویٰ بھی زیرِ بحث ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای مبینہ طور پر اپنے والد کے جنازے میں انتہائی خفیہ انداز میں شریک ہوئے۔ سیکیورٹی خدشات کے باعث انہوں نے اپنی شناخت چھپائے رکھی۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی متعدد ویڈیوز اور تصاویر میں ایک نقاب پوش شخص کو سیاہ کیپ اور ماسک میں نمازِ جنازہ کے دوران پہلی صف کے قریب کھڑا دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ شخص مصطفیٰ خامنہ ای کے عین پیچھے موجود تھا، جس کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے مختلف زاویوں سے لی گئی تصاویر اور ویڈیوز کا موازنہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہی شخصیت مجتبیٰ خامنہ ای ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا،ایران جنگ میں تیزی ،ایک دوسرے پر بڑے حملے
تاہم اس حوالے سے ایرانی حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی، اس لیے نقاب پوش شخص کی شناخت سے متعلق گردش کرنے والے دعوے تاحال غیر مصدقہ ہیں۔






