لاہور( پاک ترک نیوز) کبھی آسمانوں پر راج کرنے والا وہ طیارہ جسے ’’فضاؤں کی ملکہ‘‘ کہا گیا، اب تاریخ کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔۔۔ چار طاقتور انجن، دو منزلہ ساخت اور سیکڑوں مسافروں کو طویل فاصلے تک لے جانے کی صلاحیت رکھنے والا بوئنگ 747 اب مسافر پروازوں سے رخصت ہورہا ہے۔سنہ 1970 میں تجارتی پروازوں کا آغاز کرنے والا بوئنگ 747 دنیا کا پہلا وسیع جسامت والا مسافر طیارہ تھا۔اس کی آمد نے عالمی فضائی سفر کا نقشہ ہی بدل دیا، کیونکہ فضائی کمپنیوں کو ایک ہی پرواز میں بڑی تعداد میں مسافروں کو طویل فاصلے تک لے جانے کی سہولت مل گئی۔
امریکی طیارہ ساز کمپنی نے کئی دہائیوں کے دوران پندرہ سو سے زائد بوئنگ 747 تیار کیے، جنہیں دنیا بھر کی بڑی فضائی کمپنیوں نے اپنے بیڑے کا حصہ بنایا۔لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ دیوہیکل طیارے پرانے ہوتے گئے، کئی مسافر طیاروں کو ریٹائر کردیا گیا جبکہ متعدد کو مال بردار طیاروں میں تبدیل کردیا گیا۔اب سوال یہ ہے کہ فضاؤں کی ملکہ کی جگہ کون لے گا؟بوئنگ 747 کی جگہ لینے والے جدید طیاروں میں سب سے نمایاں نام ایئربس اے 350 کا ہے۔یہ طیارہ ہلکے اور مضبوط مرکب مادّوں سے تیار کیا گیا ہے، جبکہ اس کے پروں کو بھی جدید ساخت دی گئی ہے۔
دو طاقتور انجنوں سے چلنے والا یہ طیارہ کم ایندھن استعمال کرتے ہوئے طویل فاصلے تک پرواز کی صلاحیت رکھتا ہے۔قطر ایئرویز نے جنوری 2015 میں اے 350 کو مسافر پروازوں کے لیے استعمال کرنا شروع کیا۔اب تک تقریباً 700 اے 350 طیارے تیار کیے جاچکے ہیں اور سنگاپور ایئرلائنز اس طیارے کی سب سے بڑی استعمال کنندہ کمپنیوں میں شامل ہے۔بوئنگ 747 کے بعد بڑی جسامت کے طویل فاصلے والے طیاروں میں بوئنگ 777 ایکس کو بھی اہم سمجھا جارہا ہے۔اس کے پروں کی ساخت پہلے کے مقابلے میں زیادہ بڑی اور جدید ہے، جبکہ پروں کے سرے ضرورت کے وقت تہہ ہوجاتے ہیں، جس سے طیارہ موجودہ ہوائی اڈوں کے مخصوص مقامات پر کھڑا کیا جاسکتا ہے۔
اس طیارے میں دو انتہائی طاقتور انجن نصب ہیں، جن میں سے ہر ایک تقریباً ایک لاکھ دس ہزار پاؤنڈ تک قوت فراہم کرسکتا ہے۔دنیا بھر کی فضائی کمپنیوں کی جانب سے اس طیارے کے 600 سے زائد آرڈر دیے جاچکے ہیں۔متحدہ عرب امارات کی امارات فضائی کمپنی نے سب سے زیادہ، یعنی 270 طیاروں کا آرڈر دے رکھا ہے۔تاہم اس منصوبے میں کئی تاخیر ہوئی ہے اور اب اس کے 2027 میں باقاعدہ مسافر سروس شروع کرنے کی توقع کی جارہی ہے۔بوئنگ 747 کے متبادل کے طور پر ایک اور اہم طیارہ بوئنگ 787 ہے، جسے دنیا کے جدید ترین مسافر طیاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔اس کا تقریباً 80 فیصد ڈھانچہ مرکب مادّوں سے تیار کیا گیا ہے، جس سے طیارے کا وزن کم اور ایندھن کی بچت زیادہ ہوتی ہے۔یہ طیارہ پہلی مرتبہ 2011 میں مسافر پروازوں کے لیے استعمال ہوا۔اب تک دنیا بھر میں 1225 سے زائد بوئنگ 787 فراہم کیے جاچکے ہیں۔جاپان کی آل نپون ایئرویز اس طیارے کی بڑی استعمال کنندہ ہے، جبکہ امریکا، قطر، جاپان اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی بڑی فضائی کمپنیاں بھی اسے اپنے بیڑے میں شامل کرچکی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بوئنگ کو بڑا جھٹکا، ایئربس کی برتری
اگرچہ بوئنگ 747 کی مسافر پروازیں دنیا بھر میں تیزی سے ختم ہورہی ہیں، لیکن اس طیارے کا سفر ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔متعدد 747 طیارے آج بھی مال بردار پروازوں اور خصوصی خدمات میں استعمال ہورہے ہیں۔اس طیارے کا آخری نیا ماڈل جنوری 2023 میں تیار کرکے ایٹلس ایئر کے حوالے کیا گیا، جس کے بعد بوئنگ نے 747 کی تیاری بند کردی۔68 میٹر سے زیادہ لمبائی، چار انجن، دو منزلہ اگلا حصہ اور سینکڑوں مسافروں کو لے جانے کی صلاحیت رکھنے والا یہ دیوہیکل طیارہ کئی دہائیوں تک دنیا کے آسمانوں پر حکمرانی کرتا رہا۔لیکن اب فضائی سفر ایک نئے دور میں داخل ہوچکا ہے۔بوئنگ 747 کی جگہ لینے کی دوڑ میں ایئربس اے 350، بوئنگ 777 ایکس اور بوئنگ 787 جیسے جدید طیارے آگے بڑھ رہے ہیں۔۔۔












