لندن (پاک ترک نیوز )پاکستان ریڈ بال کرکٹ ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ جیسن گلیسپی ایک بار پھر پاکستان کرکٹ کے معاملات پر کھل کر بول پڑے ہیں۔جیسن گلیسپی نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ذمے اب بھی ان کے ہزاروں ڈالرز واجب الادا ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا اور آئندہ بھی ایسا نہیں کریں گے۔سابق کوچ نے کہا کہ وہ خاموش رہ کر سب کچھ قبول کرسکتے تھے، لیکن یہ ان کی فطرت نہیں۔ "میں یس مین نہیں ہوں، میں خاموش رہ کر تنخواہ گھر لے جا سکتا تھا، مجھے اندازہ تھا کہ چند ماہ میں برطرف کیا جاسکتا ہے۔”
گلیسپی نے کہا کہ وہ عاقب جاوید کی جانب سے اپنے خلاف کی جانے والی منفی گفتگو سے تنگ آچکے ہیں اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو قانونی کارروائی کریں گے۔ان کے مطابق پاکستان کرکٹ کی موجودہ صورتحال دیکھ کر دل ٹوٹتا ہے، پاکستان کرکٹ ایک نقصان دہ چکر میں پھنس چکی ہے اور مسائل کی جڑ عاقب جاوید ہیں۔جیسن گلیسپی کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ میں ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے ہی انہیں کئی معاملات کے بارے میں خبردار کردیا گیا تھا۔ وہ پاکستان میں کوچنگ کے غیر مستحکم ماحول سے آگاہ تھے، تاہم ٹیسٹ ٹیم کو بہتر بنانے کے موقع کو دیکھتے ہوئے ذمہ داری قبول کی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں فاسٹ بولنگ واپس لانا ان کے مینڈیٹ کا حصہ تھا اور وہ ایسی پچز تیار کرنا چاہتے تھے جو باؤنس اور تیز گیند بازی کو سپورٹ کریں۔گلیسپی کے مطابق عاقب جاوید کی تقرری نے پورا منظرنامہ تبدیل کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عاقب جاوید پاکستان کرکٹ میں تقریباً ہر چیز کے انچارج بن گئے تھے، جبکہ سلیکشن کے معاملات میں ان کا کردار بھی ختم ہوگیا تھا۔سابق ہیڈ کوچ نے دعویٰ کیا کہ عاقب جاوید نے پہلی ملاقات ہی میں اپنی بالادستی ظاہر کرنے کی کوشش کی اور وہ دوسروں کی رائے یا تجاویز قبول نہیں کرتے تھے۔گلیسپی نے کہا کہ چیئرمین اور بورڈ کی حمایت نے عاقب جاوید کو مزید مضبوط کردیا، جبکہ ایسا ماحول کسی عزت دار شخص کے لیے قابل قبول نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے خارگ جزیرے پر 550 سے زائد حملے کیے گئے ، ایرانی وزیر
انہوں نے عاقب جاوید کی جانب سے ان کے اور گیری کرسٹن کے معاہدوں پر تبصروں کو بھی نامناسب قرار دیا اور کہا کہ دونوں پاکستان میں ٹریننگ کیمپس کے لیے وقت دینے کو تیار تھے۔جیسن گلیسپی نے کہا کہ پاکستان میں کام کرنے کا پورا تجربہ انہیں کوچنگ سے بددل کرنے کے ساتھ ساتھ ذہنی طور پر بھی متاثر کر گیا۔انہوں نے وسیم اکرم اور وقار یونس کو اپنے ہیروز قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں سے ملاقات میں انہیں محبت اور احترام محسوس ہوا، جبکہ عاقب جاوید سے مل کر ایسا احساس نہیں ہوا۔
گلیسپی نے پاکستان کے موجودہ ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے فیصلوں پر اعتماد کریں اور کسی کی ہاں میں ہاں ملانے والے نہ بنیں۔ان کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے مائیک ہیسن صرف تنخواہ کی خاطر اس معاملے میں نہیں الجھیں گے۔









