اسلام آباد(پاک ترک نیوز )فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن نے مجوزہ 437 کلومیٹر فیصل آباد، پشاور وائٹ آئل پائپ لائن میں 432 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری تقریباً چار سال میں واپس لینے کی تجویز دے دی۔حکومت کی حمایت سے پیش کی گئی ٹیرف پٹیشن میں ایف ڈبلیو او نے اوگرا سے سرمایہ کاری کی واپسی کے لیے گارنٹی شدہ ٹرانسپورٹیشن ٹیرف مقرر کرنے کی درخواست کی ہے، تاکہ آذربائیجان کی سرکاری آئل کمپنی سوکار (SOCAR) کی منصوبے میں شرکت یقینی بنائی جاسکے۔
مجوزہ ٹیرف کے تحت 2029 میں فیصل آباد سے تھالیان اور پھر پشاور کے قریب تارو جبہ تک پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل کی لاگت تقریباً 64 ڈالر فی ٹن ہوگی، جو 2058 تک بتدریج کم ہوکر 14.5 ڈالر فی ٹن رہ جائے گی۔ایف ڈبلیو او کے ذیلی ادارے فرنٹیئر آئل کمپنی کے مطابق پائپ لائن کے ابتدائی اخراجات سڑک کے ذریعے تیل کی ترسیل سے زیادہ ہوں گے، تاہم قرض کی ادائیگی اور سرمایہ کی قدر میں کمی کے ساتھ ٹیرف بھی کم ہوتا جائے گا، جس کا فائدہ صارفین کو منتقل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: 432 ملین ڈالر کی آئل پائپ لائن، ایف ڈبلیو او نے سرمایہ کاری 4 سال میں واپس لینے کی تجویز دے دی
منصوبے کے تحت فیصل آباد کے گٹی سے تارو جبہ تک پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل منتقل کیا جائے گا اور یوں کراچی سے پشاور تک پائپ لائن کا ایک مسلسل “بیک بون” مکمل ہوجائے گا۔پائپ لائن کا پہلا حصہ فیصل آباد سے تھالیان تک 256 کلومیٹر طویل اور 20 انچ قطر کا ہوگا، جس کی سالانہ گنجائش تقریباً 70 لاکھ ٹن ہوگی۔ دوسرا 172 کلومیٹر طویل 12 انچ قطر کا حصہ تھالیان سے تارو جبہ تک جائے گا، جبکہ 9 کلومیٹر کی 8 انچ لائن تھالیان کو فقیر آباد سے منسلک کرے گی۔منصوبے کی مجموعی لاگت تقریباً 432 ملین ڈالر بتائی گئی ہے۔ اوگرا نے منصوبے کی عمر 30 سال مقرر کرنے کی تجویز دی ہے۔تاہم وزارت خزانہ اور وزارت توانائی نے چار سال میں سرمایہ کاری کی واپسی اور ڈالر سے منسلک منافع پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ وزارت خزانہ نے تجویز دی کہ سرمایہ کاری کی واپسی کی مدت چار کے بجائے سات سال کی جائے تاکہ ابتدائی برسوں میں صارفین پر ٹیرف کا بوجھ کم رہے۔
وزارت خزانہ کا مؤقف تھا کہ ڈالر میں منافع صرف حقیقی غیر ملکی سرمایہ کاری پر لاگو ہونا چاہیے، مقامی وسائل سے ہونے والی سرمایہ کاری پر نہیں۔دوسری جانب سوکار نے سرمایہ کاری کے تحفظ کے لیے “Ship or Pay” انتظام کا مطالبہ کیا ہے، جس کے تحت اگر کسی وجہ سے تیل منتقل نہ بھی ہو تو پائپ لائن کی مختص گنجائش کی ادائیگی لازم ہوگی۔اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) نے وزارت خزانہ کے اعتراضات اور توانائی کے وزیر کے تحفظات کو مسترد کرتے ہوئے منصوبے کو وسیع تر تزویراتی تناظر میں اہم قرار دیا اور اسے آذربائیجان سے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے کا ذریعہ قرار دیا۔
حکام کے مطابق اس وقت ملک میں تقریباً 70 فیصد پٹرول اور ڈیزل سڑکوں، 28 فیصد موجودہ پائپ لائن نیٹ ورک اور 2 فیصد ریل کے ذریعے منتقل کیا جاتا ہے۔ نئی پائپ لائن سے پٹرولیم مصنوعات کی پائپ لائن کے ذریعے ترسیل کا حصہ تقریباً 10 فیصد بڑھنے کی توقع ہے۔منصوبے کا مقصد شمالی علاقوں میں بڑھتی پٹرولیم طلب پوری کرنا، ایندھن کی قلت کے خطرات کم کرنا، سڑکوں پر آئل ٹینکرز کا انحصار گھٹانا، سپلائی کو محفوظ اور قابلِ اعتماد بنانا اور کاربن اخراج میں کمی لانا ہے۔
اوگرا نے تعمیراتی مرحلے کا ٹیرف جلد منظور کرنے کی تیاری شروع کردی ہے۔











