بحرالکاہل میں ایل نینو کا ایک غیر معمولی اور ریکارڈ توڑ واقعہ تیزی سے شدت اختیار کر رہا ہے، جس نے ماہرینِ موسمیات اور سمندری سائنس دانوں میں تشویش پیدا کردی ہے۔
ماہرین کے مطابق وسطی استوائی بحرالکاہل کے پانی کا درجہ حرارت گزشتہ چھ ماہ کے دوران ریکارڈ رفتار سے بڑھا ہے اور سمندر کا ایک بڑا حصہ معمول سے غیرمعمولی طور پر گرم ہوچکا ہے۔آسٹریلیا کے بیورو آف میٹرولوجی کی سینئر کلائمیٹولوجسٹ فیلیسٹی گیمبل کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر وسطی استوائی بحرالکاہل میں درجہ حرارت کے ایسے ریکارڈ سامنے آرہے ہیں جو ماضی کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہیں۔
ماہرین ایل نینو کی شدت جانچنے کے لیے بحرالکاہل کے مخصوص حصے Niño 3.4 میں سمندر کی سطح کے درجہ حرارت کو مانیٹر کرتے ہیں۔موجودہ ماڈلز کے مطابق اس خطے کا درجہ حرارت رواں ماہ 2.6 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کرسکتا ہے، جو جنوری 1983 میں ریکارڈ کی گئی سطح کے برابر یا اس سے زیادہ ہوگا۔لیکن تشویشناک پیش گوئی یہ ہے کہ موجودہ ایل نینو کی شدت 3.6 ڈگری سیلسیس تک پہنچ سکتی ہے۔اگر یہ پیش گوئی درست ثابت ہوئی تو یہ جدید دور کے تمام ریکارڈز کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اب تک کا غیر معمولی ترین ایل نینو بن سکتا ہے۔
ایل نینو بحرالکاہل میں پیدا ہونے والا ایک قدرتی موسمی رجحان ہے، جس میں وسطی اور مشرقی استوائی بحرالکاہل کا سمندر معمول سے زیادہ گرم ہوجاتا ہے۔اس کے برعکس لا نینا کے دوران یہی پانی غیرمعمولی طور پر ٹھنڈا ہوجاتا ہے۔یہ دونوں مظاہر El Niño-Southern Oscillation یعنی ENSO کا حصہ ہیں اور عموماً ہر دو سے سات سال کے دوران مختلف شدت کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔بحرالکاہل کے پانی کے درجہ حرارت میں یہ تبدیلیاں دنیا کے مختلف خطوں میں بارش، خشک سالی، گرمی، سیلاب اور طوفانی موسم کے امکانات کو متاثر کرسکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بالٹک سمندر میں زیرِ آب جنگ کا نیا محاذ،امریکی ڈرونز کا گشت
عالمی موسمیاتی ادارے WMO نے خبردار کیا ہے کہ اس غیر معمولی ایل نینو کے اثرات پہلے ہی دنیا کے مختلف حصوں میں نظر آنا شروع ہوگئے ہیں۔وسطی امریکا میں خشک سالی کی صورتحال دیکھی جارہی ہے جبکہ جنوبی امریکا کے بعض علاقوں، خصوصاً جنوبی چلی میں معمول سے زیادہ بارش، شدید بارشوں اور سیلاب کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ماہرین کے مطابق ایمیزون کے بعض علاقوں میں بھی خشک سالی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جبکہ دوسری جانب جنوبی امریکا کے کچھ حصوں میں شدید بارشوں کا امکان موجود ہے۔ آسٹریلیا میں اب تک اس ایل نینو کے اثرات نسبتاً محدود رہے ہیں، تاہم ماہرین موسمِ بہار اور موسمِ گرما کے دوران صورتحال تبدیل ہونے کا خدشہ ظاہر کررہے ہیں۔ماضی میں شدید ایل نینو کے دوران آسٹریلیا کے مشرقی اور جنوبی علاقوں میں خشک سالی، جنگلات میں آگ اور شدید گرمی دیکھی جاچکی ہے۔







