اسلام آباد: (پاک ترک نیوز)پاکستان میں بڑھتا ہوا عوامی قرضہ ایک سنگین مالی بحران کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ وزارتِ خزانہ کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کی گئی سالانہ مالی پالیسی رپورٹ کے مطابق ملک کے ہر شہری پر قرضے کا بوجھ تین لاکھ روپے سے تجاوز کرگیا ہے، جو ایک سال کے دوران نمایاں اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2023-24 میں فی کس قرضہ تقریباً 2 لاکھ 94 ہزار روپے تھا، جو مالی سال 2024-25 کے اختتام پر بڑھ کر 3 لاکھ 33 ہزار روپے سے زائد ہوچکا ہے۔
یوں صرف ایک سال میں ہر شہری کے حصے میں آنے والا قرضہ لگ بھگ 39 ہزار روپے بڑھ گیا، جس کا تخمینہ 24 کروڑ سے زائد آبادی کی بنیاد پر لگایا گیا ہے۔وزارتِ خزانہ کے مطابق جون 2024 سے جون 2025 کے درمیان مجموعی عوامی قرضہ 71 کھرب روپے سے بڑھ کر 80 کھرب روپے سے بھی تجاوز کرگیا۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اس اضافے کی بڑی وجوہات میں بھاری سودی ادائیگیاں اور زرِمبادلہ کی شرح میں اتار چڑھاؤ شامل ہیں۔مالی پالیسی رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران عوامی قرضے کا دباؤ حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنا رہا۔ فِسکل ریسپانسبلٹی اینڈ ڈیٹ لمٹیشن ایکٹ کے تحت حکومت پر لازم ہے کہ وہ مالی نظم و ضبط کو یقینی بنائے، تاہم رپورٹ کے مطابق وفاقی مالی خسارہ جی ڈی پی کے 6.2 فیصد تک جا پہنچا، جو قانونی حد 3.5 فیصد سے کہیں زیادہ ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق حکومت نے مقررہ قانونی حد سے تقریباً 3 کھرب روپے زیادہ خسارہ کیا، جبکہ مجموعی عوامی قرضہ جی ڈی پی کے تناسب سے 70 فیصد سے تجاوز کرگیا۔
اسی عرصے میں کفایت شعاری کے سرکاری دعووں کے برعکس نئے سرکاری محکمے قائم کیے گئے، وفاقی کابینہ میں توسیع ہوئی اور سرکاری اخراجات میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 کے لیے وفاقی اخراجات کا تخمینہ 18.9 کھرب روپے لگایا گیا تھا، جن میں زیادہ تر حصہ موجودہ اخراجات پر مشتمل تھا۔
اس دوران حکومت نے جی ڈی پی کے تناسب سے اضافی اخراجات بھی کیے۔ٹیکس وصولیوں کا ہدف مکمل نہ ہوسکا اور آمدن مقررہ اندازوں سے کم رہی، تاہم نان ٹیکس آمدنی توقعات سے بہتر رہی۔
دوسری جانب ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص فنڈز میں کمی ہوئی، جبکہ دفاعی اخراجات اور قرضوں پر سود کی ادائیگیاں بجٹ سے کہیں زیادہ رہیں۔ماہرین کے مطابق اگر قرضوں میں اضافے اور اخراجات پر قابو نہ پایا گیا تو مستقبل میں معیشت پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات براہِ راست عام شہری کی زندگی پر پڑیں گے۔












