لاہور( پاک ترک نیوز) خاموش سفارتکاری، بڑا دھماکا، جو کام دنیا کی بڑی طاقتیں نہ کر سکیں وہ پاکستان نے کر دکھایا۔ اسرائیلی میڈیا نے خبر دی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے براہِ راست نیتن یاہو کو فون کرکے لبنان پر حملے بند کرنے کا کہہ دہا ہے۔ یہ معمولی بات نہیں ، ایک بڑا اشارہ ہے کہ عالمی دباؤ اب شکل اختیار کر چکا ہے۔
سوال یہ ہے کہ یہ دباؤ آیا کہاں سے؟ یہاں سامنے آتا ہے پاکستان کا خاموش مگر موثر کردار۔ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان نے بیک ڈور رابطوں اور سفارتی حکمتِ عملی کے ذریعے ایک ایسا ماحول بنایا جس نے واشنگٹن کو سوچنے پر مجبور کر دیا۔
دوسری طرف اسرائیلی فوج نے واضح کر دیا ہے کہ سیز فائر فی الحال ایجنڈے پر نہیں، بیروت سے انخلا کی وارننگز اس بات کا ثبوت ہیں کہ جنگ ابھی رکی نہیں۔ مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ یورپی ممالک کی تنقید، ایران کی سخت وارننگ اور خطے میں بڑھتی بے چینی نے امریکا کو ایک مشکل فیصلے کے سامنے کھڑا کر دیا ہے۔ اگر اسرائیل نہ رکا تو ایران بھی اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹ سکتا ہے
اب تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں۔ اگر ٹرمپ واقعی نیتن یاہو پر دباؤ بڑھاتے ہیں، تو یہ صرف ایک جنگ بندی نہیں ہوگی بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک بڑا ٹرننگ پوائنٹ ہوگا۔ اور یہی وہ جگہ ہے جہاں پاکستان ایک “خاموش پاور” کے طور پر ابھر رہا ہے ایک ایسا ملک جو مذاکرات کی میز سجانے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔












