لاہور( پاک ترک نیوز) پاکستان ایک بار پھر عالمی سفارتکاری کا مرکز بنتا دکھائی دے رہا ہے۔امریکا اور ایران جیسے روایتی حریفوں کو ایک میز پر بٹھانے کی کوششیں تیز کر دی گئیں ، اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات، جنگ بندی کی ڈیڈ لائن، اور آبنائے ہرمز پر کشیدگی ۔۔سوال یہ ہے کیا پاکستان ایک بار پھر بڑا سفارتی بریک تھرو دے پائے گا یا خطہ نئی جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے؟
دنیا کی نظریں ایک بار پھر پاکستان پر ہیں جہاں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدہ تعلقات میں ممکنہ بہتری کے لیے سفارتی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ مذاکرات کا اگلا دور اسلام آباد میں متوقع ہے جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی آمد بھی متوقع بتائی جا رہی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے امید ظاہر کرتے ہوئے واضح پیغام دیا ہے کہ جنگ بندی میں توسیع نہیں ہوگی۔اگر معاہدہ نہ ہوا تو صورتحال دوبارہ جنگ میں بدل سکتی ہے۔ جے ڈی وینس جلد پاکستان پہنچ جائیں گے اور معاہدے پر دستخط ہوں گے،، ایرانی قیادت ملنا چاہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں، معاہدے پر پہنچ جائیں تو ایرانی قیادت سے ملنے کے لئے تیار ہوں۔
۔ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات ممکن نہیں۔ جبکہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان بداعتمادی اب بھی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف کا کہناہے دھمکیوں کے ساتھ مذاکرات قبول نہیں کریں گے امریکی صدر ٹرمپ مذاکرات کی میز کو ہتھیار ڈالنے کی میز‘ میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا بامعنی مذاکرات کے لئے وعدوں کی پاسداری پہلی بنیاد ہے،، امریکہ اور ایران کے درمیان بداعتمادی قائم ہے۔،،ترجمان انی وزات خارجہ اسماعیل بقائی کا کہنا ہے ، ۔ موجودہ حالات میں واشنگٹن کے ساتھ بات چیت ممکن نہیں،، امریکہ ماضی سے سبق نہیں سیکھ رہا،
ماہرین کے مطابق پاکستان اس وقت ایک نہایت نازک مگر اہم کردار ادا کر رہا ہے،ایک طرف امریکا کا دباؤ اور سخت شرائط…،دوسری طرف ایران کی خودمختاری اور سیکیورٹی خدشات،اگر پاکستان ان دونوں کو ایک میز پر بٹھانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر ایک بڑی سفارتی کامیابی ہوگی،لیکن اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی تیل مارکیٹ، تجارت اور سیکیورٹی بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
کیا ایران واقعی اسلام آباد آئے گا؟ کیا امریکا اپنے سخت مؤقف میں نرمی لائے گا؟جنگ بندی ختم ہونے کے بعد کیا خطہ نئی جنگ کی طرف جائے گا؟ اور سب سے اہم، کیا پاکستان ایک بار پھر “امن کا پل” ثابت ہو سکے گا؟ فی الحال سب نظریں اسلام آباد پر جمی ہیں،جہاں اگلے 24 سے 48 گھنٹے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔












