واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بارپھر ایران کودھمکی دے دی،، وائٹ ہاوس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بولے اب دو ہی راستے ہیں، یا تو معاہدہ کر لے یا پھر امریکا فیصلہ کن کارروائی کرے گا۔
امریکی صدر نے کہا معاہدہ نہ ہوا تو پھر ہم اپنا کام کریں گے،، جومشکل نہیں، ایک گھنٹے میں ہی سب کچھ تباہ کر سکتے ہیں لیکن مجھے معاہدہ پسند ہے ،ایران کے نو کروڑ دس لاکھلوگوں کو پریشان نہیں کرنا چاہتا
امریکی صدر نے کہا جنگ میں امریکی فوج نے ایرانی بحریہ کے جہازوں، فضائیہ کے تمام طیاروں اور ریڈار نظام کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ امریکی بحریہ نے ایران کے خلاف ایسی سخت بحری ناکہ بندی نافذ کی جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ تقریباً دو ماہ تک کوئی بھی جہاز اس ناکہ بندی کو عبور نہیں کر سکا۔
یہ بھی پڑھیں: نیٹو اجلاس سے پہلے ٹرمپ کا میلونی پر نیا طنز
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ایران اپنی فضائی حدود کا دفاع کرنے کی صلاحیت کھو چکا ہے جس کے بعد مذاکرات پر راضی ہوا اور ممکنہ معاہدے کے امکانات کے پیش نظر امریکا نے بھی نرمی سے کام لیا تھا۔
ضرورت پڑنے امریکی افواج بہت کم وقت میں ایران کے بنیادی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا کر تباہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں جس کی تیاری بھی مکمل ہے۔ ہم ایک گھنٹے کے اندر ایران کے پل تباہ کر سکتے ہیں اس کا بجلی کا نظام مفلوج کر سکتے ہیں اور اس کے جدید پاور پلانٹس کو ناکارہ بنا سکتے ہیں لیکن میں فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہوں۔
امریکی صدر نے کہا میں معاہدے کو اس لیے ترجیح دیتا ہوں کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ ایران کی تقریباً 9 کروڑ 10 لاکھ آبادی اس کا خمیازہ بھگتے لیکن معاہدہ نہیں کیا تو فیصلہ کن کارروائی ناگزیر ہوگی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران اب معاشی طور پر بھی کمزور ہو چکا ہے اور اس کے پاس پہلے جیسی مالی طاقت نہیں رہی۔ اس لیے وہ بھی جنگ کے بجائے مذاکرات کی خواہش رکھے گا۔












