لاہور( پاک ترک نیوز) دنیا کی نظریں ایک بار پھر پاکستان پر ،سپر پاور امریکا اور ایران کے مذاکرات کا اگلا دور جلد ہونے والا ہے ،اسلام آباد پھر بڑا سفارتی میدان بن چکا ہے، پاکستان نے جس طرح کھیل بدلا ،دنیا حیران ہو گئی۔ ،کیا ایران اور امریکا کے درمیان جنگ ہمیشہ کے لیے ختم ہونے والی ہے ۔
پاکستان ایک بار پھر دنیا کا مرکز نگاہ بن چکا ہے ،امریکا اور ایران کے دوبارہ مذاکرات کی میز پھر سجنے والی ہے،دونوں ملکوں کے مذاکرات فیصلہ کن موڑ پر پہنچ گئے ،،امریکی صدر نے بھی معاہدہ طے پانے اور اسلام آباد آنے کا عندیہ دے دیا۔
پاکستان کی سفارتکاری ایک بار پھر رنگ لے آئی ،اب اسلام آباد میں ایک بڑے معاہدے کی راہ ہمور ہوتے دکھائی دے رہی ہے ۔مجوزہ معاہدے کا ڈرافٹ پاکستان کے ذریعے ایران اور امریکا سے شیئر کیا جا چکا ہے ،، مذاکرات کامیاب ہونے پر معاہدہ اسلام آباد پر دستخط ہوں گے، دنیا کی اہم شخصیات کی پاکستان آمد کا امکان ہے ۔
امریکی صدر نے بھی ایران کے ساتھ معاہدے کا عندیہ دے دیا ،ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ایران کے ساتھ ہم ڈیل کے بہت قریب ہیں… ایران اب ان نکات پر بھی آمادہ ہو چکا ہے جن پر پہلے اختلاف تھا۔ امریکی ایران جوہری ہتھیار نہ رکھنے پر رضا مند ہو چکا ہے۔
امریکی صدر نے پاکستان کے کردار کو بھی سراہا اور وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو زبردست قیادت قرار دے دیا ،کہا پاکستانی عوام عظیم قوم ہیں ۔
دوسری طرف پاکستان کی سفارتی کوششوں میں تیزی آ گئی ہے ،وزیراعظم شہبازشریف سعودی عرب ،قطر کے بعد اب ترکیہ میں پہنچ چکے ہیں ،اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں میں خطے میں امن پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے، وزیراعظم اور امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کی ملاقات میں امن و استحکام پر زور دیا گیا ، وزیراعظم شہبازشریف ترکیہ میں پانچویں انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شرکت کریں گے وزیراعظم شہبازشریف کی ترک صدر رجب طیب اردوان اور دیگر اہم عالمی رہنماوں سے ملاقاتیں متوقع ہیں ، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیراطلاعات عطااللہ تارڑ، معاون خصوصی طارق فاطمی بھی وزیراعظم کے ہمراہ ترکیہ پہنچے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی خطے میں امن کے لیے سرگرم ہیں ،فیلڈ مارشل نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان ،ایرانی سپیکر باقر قالیباف اور سپیکر عباس عراقچی سے ملاقاتیں کی ہیں جن میں خطے میں امن ،جنگ کے خاتمے اور اسلام آباد معاہدے کے حوالے سے مشاورت کی گئی ہے ۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا اسلام آباد واقعی ایک تاریخی معاہدے کا گواہ بننے جا رہا ہے؟ کیا اسلام آباد واقعی وہ مقام بننے جا رہا ہے جہاں ایک نئی عالمی تاریخ لکھی جائے گی؟یا پھر یہ امیدیں ایک بار پھر جنگ کی آگ میں جل جائیں گی؟












