تہران ( پاک ترک نیوز) مشرق وسطی ایک مرتبہ پھر جنگ کے دہانے پر پہنچ گیا ۔امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے پر حملے نے خطے میں خطرے کی گھنٹی بجادی ۔اسرائیل نے بھی جنگی تیاریوں کا دوبارہ آغاز کردیا ۔
امریکہ نے ایران کے دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے تو دوسری جانب ایران نے جوابی کارروائی میں امریکہ کے فضائی نظام پر حملے کئے ہیں ۔مشرق وسطی ایک بار پھر جنگ کے دہانے پر پہنچ گیا ہے ۔
اسرائیلی میڈیا کی جانب سے دعوی کیاگیا ہے کہ سکیورٹی حکام کی جانب سے اسرائیلی افواج کو واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ اگر ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ چھڑ جائے تو اندرونی محاذ کو مکمل طور پر اور فوری فعال بنانے کی تیاری کی جائے ۔
اسرائیلی ہوم فرنٹ کمانڈ کا کہنا ہے کہ مستقبل میں کسی بھی جنگ کی صورت میں شہری نظام کو بغیر طویل وارننگ کے فوری طور پر جنگی حالت میں لانا ہوگا، تاکہ کسی بھی اچانک حملے کا مقابلہ کیا جا سکے۔
دوسری جانب اسرائیل کو حال ہی میں امریکا کی جانب سے جدید KC-46 فضائی ایندھن بردار طیارے بھی موصول ہوئے ہیں، جنہیں ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ طویل فاصلے کی جنگ کے لیے ایک “گیم چینجر” قرار دیا جا رہا ہے۔
ماضی کی جنگ میں ایران نے درجنوں میزائل حملے کیے جن سے اسرائیل کے اندر بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی، اور اب خدشہ ہے کہ اگلے تصادم میں ایران پہلے سے زیادہ جدید اور تیز رفتار میزائل صلاحیت کے ساتھ میدان میں اتر سکتا ہے۔
اسرائیلی سیاسی اور سیکیورٹی حلقوں میں یہ بحث بھی تیز ہو گئی ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ اسرائیل کے لیے ایک بڑا اسٹریٹجک دھچکا ہو سکتا ہے۔












