تہران ( پاک ترک نیوز) ناظرین! کیا ایران کے خلاف جنگ امریکا کے لیے نئی عراق اور افغانستان جنگ ثابت ہونے جا رہی ہے؟ اربوں ڈالر پانی کی طرح بہائے جا رہے ہیں، کانگریس سے مزید کھربوں روپے کے برابر فنڈز مانگے جا رہے ہیں، جبکہ خود امریکا میں عوام مہنگائی اور معاشی مشکلات سے پریشان ہیں۔ آخر ایران جنگ پر اب تک کتنا خرچ ہو چکا ہے، اور یہ رقم کہاں جا رہی ہے؟ دیکھیے اس رپورٹ میں۔
ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی امریکا کے لیے صرف ایک عسکری محاذ نہیں بلکہ ایک بڑا مالی امتحان بھی بنتی جا رہی ہے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ پر امریکا اب تک 37 اعشاریہ 5 ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے۔ یہ رقم صرف چند ماہ پہلے جاری کیے گئے تخمینے سے تقریباً 8 ارب ڈالر زیادہ ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگی اخراجات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
وزیر دفاع نے سینیٹ کی اپروپری ایشنز کمیٹی کو بتایا کہ اگر کانگریس نے فوری طور پر مزید 87 ارب ڈالر منظور نہ کیے تو امریکی فوج کو شدید مالی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس رقم میں سے 67 ارب ڈالر صرف مشرق وسطیٰ میں جاری فوجی کارروائیوں کے لیے مختص کیے جائیں گے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس پہلے ہی آئندہ مالی سال کے لیے ڈیڑھ کھرب ڈالر سے زائد کے دفاعی بجٹ کی درخواست کر چکا ہے، جو امریکی تاریخ کے سب سے بڑے دفاعی بجٹ میں شمار ہوگا۔
پیٹ ہیگستھ نے خبردار کیا کہ اگر اضافی فنڈز نہ ملے تو فوجیوں کی تنخواہوں، جدید ہتھیاروں، گولہ بارود کی فراہمی اور فوجی تربیت جیسے اہم شعبے متاثر ہوں گے، جس سے امریکا کی عسکری صلاحیت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
لیکن کانگریس میں اس مطالبے پر شدید اختلافات سامنے آ گئے ہیں۔ڈیموکریٹ سینیٹرز نے سوال اٹھایا کہ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی ایران کے خلاف کامیابی کا دعویٰ کر چکے ہیں تو پھر مزید دسیوں ارب ڈالر کیوں درکار ہیں؟
یہ بھی پڑھیں: ایران امریکہ جنگ ، خام تیل مزید مہنگا
سینیٹر کرسٹن گلیبرانڈ نے ٹرمپ انتظامیہ پر الزام لگایا کہ وہ کانگریس سے بمباری کے لیے لامحدود رقم مانگ رہی ہے، جبکہ امریکی عوام مہنگائی، بے روزگاری اور روزمرہ اخراجات پورے کرنے کے لیے مشکلات کا شکار ہیں۔
سینیٹر گیری پیٹرز نے پیٹ ہیگستھ کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا ایک اور لامتناہی جنگ میں پھنس رہا ہے۔ جواب میں وزیر دفاع نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا، "آپ کو شرم آنی چاہیے۔”
امریکی عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ 37.5 ارب ڈالر صرف ابتدائی تخمینہ ہے۔ اس میں امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصانات، زخمی فوجیوں کی دیکھ بھال، نئے ہتھیاروں کی خریداری، جنگی سازوسامان کی مرمت اور مستقبل کی تعمیر نو کے اخراجات شامل نہیں۔ اگر یہ تمام عناصر شامل کیے جائیں تو جنگ کی حقیقی لاگت اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران کے ساتھ کشیدگی طویل عرصے تک برقرار رہی تو امریکی دفاعی اخراجات میں مزید اضافہ ہوگا، جس کے اثرات نہ صرف امریکی معیشت بلکہ عالمی مالیاتی منڈیوں، خام تیل کی قیمتوں اور مشرق وسطیٰ کی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔












