انقرہ ( پاک ترک نیوز) ترکیہ نے 1500کلو میٹر تک مار کرنیوالا GEZGİN ٹام ہاک میزائل تیار کرلیا ۔
مشرقی بحیرہ روم، بحیرہ اسود اور مشرقِ وسطیٰ کے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ترکیہ کے کروزمیزائل تک مار کرنے والے میزائل کا منظرِ عام پر آنا محض ایک نئے مقامی ہتھیار کی رونمائی نہیں بلکہ اس بات کا اعلان ہے کہ انقرہ اب ان چند ممالک کی صف میں شامل ہو رہا ہے جو غیر ملکی ٹیکنالوجی یا بیرونِ ملک تعینات فضائی اثاثوں پر انحصار کیے بغیر گہرائی میں موجود اہداف پر مؤثر روایتی حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
جزگن میزائل کی اہم خصوصیات میں ایک ہزار سے پندرہ سو کلو میٹر تک مار کرنے اورکم بلندی پر پرواز اور ریڈار سے بچنے کی صلاحیت ہے ،زمین کی ساخت کے مطابق راستہ اختیار کرنے والا نیویگیشن سسٹم نصب کیا گیا جدید گائیڈنس اور ٹیرین کونٹور میچنگ ٹیکنالوجی کااستعمال کیا گیا ،انفرا ریڈ امیجنگ سِیکر کے ذریعے انتہائی درست نشانہ بند ی کرے گا،،دورانِ پرواز ہدف میں تبدیلی اور اپ ڈیٹ کی ممکنہ صلاحیت بھی حاصل ہے ،اسے بحری جہازوں اورآبدوزوں سے فائر کرنے کی صلاحیت بھی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ بھی سعودی عرب کے نقش قدم پر ،ابراہیمی معاہدے کو آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے مشروط کردیا
امریکی ٹام ہاک کروز میزائل کے مقامی متبادل کے طور پر تیار کیا گیا ترکی کا نیا میزائل ایک ایسا درست نشانہ لگانے والا نظام متعارف کراتا ہے جو ایک ہزار کلومیٹر سے زائد فاصلے پر موجود اہم فوجی، سیاسی اور بنیادی ڈھانچے کے اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ اس سے ترک مسلح افواج کو مشرقی بحیرہ روم، بحیرہ اسود، مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے بعض حصوں میں اپنی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرنے کی صلاحیت حاصل ہوگی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب علاقائی سلامتی کے مقابلے میں طویل فاصلے تک درست حملہ کرنے والی صلاحیتیں فیصلہ کن اہمیت اختیار کر چکی ہیں اور دشمن کے عقب میں موجود اسٹریٹجک تنصیبات کو خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت دفاعی توازن اور طاقت کے اظہار کا اہم ذریعہ بن چکی ہے۔
ترکیہ کے سابق کروز میزائلو سام اور اٹماکا کے برعکس نئے میزائل کوایک اسٹریٹجک حملہ آور ہتھیار کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے، جو کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، فضائی دفاعی نظام، لاجسٹک مراکز، فضائی اڈوں اور قومی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس میزائل کی تیاری نیشنل جوائنٹ کروزمیزائل کے پروگرام کے تحت کی گئی جو ترکی کی اس دفاعی حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد اہم جنگی صلاحیتوں کو بیرونی سیاسی دباؤ، پابندیوں اور برآمدی رکاوٹوں سے محفوظ بنانا ہے۔
نئے کروز میزائل کی اصل اہمیت صرف اس کی رینج میں نہیں بلکہ اس کی کم بلندی پر پرواز کرنے اور زمین کے نشیب و فراز کے ساتھ حرکت کرنے کی صلاحیت میں ہے، جو دشمن کے ریڈار اور فضائی دفاعی نظاموں کے لیے اس کا سراغ لگانا مشکل بنا دیتی ہے۔












