انقرہ ( پاک ترک نیوز) ترکیہ نے ساہا ایکسپو میں بیالیس ہزار پاؤنڈ تھریسٹ رکھنے والا جدید گوچ ہان ٹربو فین انجن متعارف کر دیا ۔جس کے بعدترکیہ کے دفاعی شعبے میں ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے کہ آیا یہ منصوبہ پہلے سے جاری انجن پروگرام کا متبادل ہے یا اس سے بالکل الگ منصوبہ ؟
ترکیہ کی وزارتِ دفاع کے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ سینٹر نے پانچ مئی کو استنبول میں ہونے والی دفاعی نمائش میں ٹربو فین انجن کی پہلی بار نمائش کی ۔ترک وزارت دفاع کے ترجمان کے مطابق یہ انجن مکمل طور پر مقامی وسائل سے تیار کیا گیا ہے ۔ اس کا مقصد حساس دفاعی ٹیکنالوجیز میں بیرونی انحصار ختم کرنا ہے۔
وزارت دفاع کے آر اینڈ ڈی سینٹر کی ڈائریکٹر نیلوفر کُزولو نے بتایا کہ اس انجن کے چھ پروٹوٹائپس پہلے ہی تیار کیے جا چکے ہیں جبکہ 2026 کے دوران اس کے کوالیفکیشن ٹیسٹ شروع کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق انجن میں استعمال ہونے والے سنگل کرسٹل ٹربائن بلیڈز مکمل طور پر ترکیہ میں ڈیزائن، کاسٹ اور تیار کیے گئے ۔
انہوں نے واضح کیا کہ گوچ ہان کسی نمائش کے لیے بنایا گیا ڈمی ماڈل نہیں بلکہ ایک حقیقی انجن ہے، اور ترک انجینئرز نے کسی امریکی انجن کی نقل نہیں کی۔
دفاعی جریدوں کے مطابق گوچ ہان کی طاقت بیالیس ہزارف پاؤنڈ آفٹر برننگ تھریسٹ ہے ،اس کا قطر 46.5 ،ایئر فلو 420پاؤنڈ فی سکینڈ اور بائی پاس ریشو صفر اعشاریہ چھ آٹھ ہے ،یہ صلاحیت اسے امریکی ایف 35 کے بالکل قریب لے جاتی ہے جبکہ یہ ایف بائیس اور روسی ال اکتالیس انجن سے زیادہ طاقتور قرار دیا جا رہا ہے۔
دلچسپ بات ہے کہ گوچ ہان کو بغیرپہلے سے معلوم فلائٹ ٹیسٹ یا سرکاری معاہدے کے اچانک منظر عام پر لایا گیا، جس پر بعض دفاعی ماہرین نے سوال اٹھایا کہ جب ترک انجن انڈسٹریز ٹی ای ایل ،پہلے ٹی ایف 35000انجن تیار کر رہی ہے۔
ٹی ای ایل کا ٹی ایف 35000 دراصل ترکیہ کے پانچویں نسل کے لڑاکا طیارے کان کےلیے سرکاری طور پر منظور شدہ انجن ہے جو ترک دفاعی صنعت کے ادارے ایس ایس بی کی نگرانی میں تیار کیا جا رہا ہے۔
اس کے برعکس گوچ ہان وزارت دفاع کے لیے اپنے آر اینڈ ڈی سینٹر کا منصوبہ ہے ،جو ایس ایس بی اور ٹی ای ایل کے صنعتی ڈھانچے سے الگ کام کرتا ہے۔یہ ادارہ ماضی میں راکٹ انجن، پروپلشن سسٹمز اور بارودی مواد کی ٹیکنالوجی پر کام کرتا رہا ہے۔
نیلوفر کُزولو کے مطابق ان کے ادارے نے مائع ایندھن والے راکٹ انجنوں سے آغاز کیا، پھر ہیلی کاپٹر ٹربو شافٹ انجن اور نور پر کام کیا ،اب ٹربو فین انجن ٹیکنالوجی تک پہنچ گیا ہے ۔
گوچ ہان دراصل ترکی کی اس بڑی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد دفاعی صنعت میں ہر اہم ٹیکنالوجی کو مقامی سطح پر تیار کرنا ہے تاکہ کوئی غیر ملکی ملک انجن یا ایندھن روک کر ترک دفاعی پروگرام متاثر نہ کر سکے۔
رپورٹ کے مطابق ترکیہ کی یہ پیش رفت پاکستان کے لیے بھی ایک ممکنہ ماڈل بن سکتی ہے،خاص طور پر انجن ٹیکنالوجی،سنگل کرسٹل بلیڈرز ،تھرمل کوٹنگز ،،ایف اے ڈی ای سی سافٹ ویئر جیسے شعبے شامل ہیں ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل کامیابی تب ممکن ہے جب پاکستان طویل المدتی صنعتی بنیادوں، تحقیق، انجینئرنگ انفراسٹرکچر اور انسانی صلاحیتوں میں مسلسل سرمایہ کاری کرے جیسا کہ ترکیہ نے گزشتہ چالیس برسوں میں کیا ہے۔












